مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 85
(AO) مقام خاتم انت متابعت اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم ہرگز حاصل کر ہی نہیں سکتے۔ہمیں جو کچھ ملتا ہے ظلی اور طفیلی طور پر ملتا ہے۔“ (ازالہ اوہام صفحہ ۱۳۸) پس جب بقول مولانا محمد قاسم صاحب تمام انبیاء کی نبوت ظل و عکس محمدی ہی ہے حالانکہ وہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے حقیقت میں اتنی نہ تھے۔تو جو کامل امتی ہو۔اس کی نبوت اور اس کے کمالات تو بدرجہ اولی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا ظل و عکس ہوں گے۔دوسری آیت سُورہ اعراف میں اللہ تعالیٰ نے ہدایت فرمائی ہے:۔يَا بَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيْيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي فَمَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔(الاعراف ۴۶ آیت ۳۶) ترجمہ: اے بنی آدم اگر آئندہ تم میں سے تمہارے پاس رسول آئیں جو تم پر میری آیات بیان کریں تو جو لوگ تقویٰ اختیار کریں گے اور اپنی اصلاح کرلیں گے ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔اس آیت سے روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ بنی آدم کو آئیندہ کے لئے قرآن شریف کی اس آیت میں ہدایت کی گئی ہے کہ جب آئیند ہ اُن کے پاس رسول آئیں تو اُن کا فرض ہے کہ وہ انہیں قبول کریں۔ورنہ نجات سے محروم رہیں گے۔پس اگر