مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 216
م خاتم است حُكْمُ تَحْلِيْلٍ أَوْ تَحْرِيْمِ بَلْ تَعْرِيْفٌ بِمَعَانِي الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ أَوْ بِصِدْقِ حُكْمِ مَشْرُوْعٍ ثَابِتٍ أَنَّهُ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ تَعَالَى أَوْ تَعْرِيْفٌ بِفَسَادِ حُكْمِ قَدْ ثَبَتَ مِنَ النَّقْلِ صِحْتُهُ وَ نَحْوُ ذَلِكَ وَكُلُّ ذَلِكَ تَنْبِيْهُ مِنَ اللهِ تَعَالَى وَشَاهِدٌ عَدْلٌ مِنْ نَفْسِهِ وَلَا سَبِيْلَ لِصَاحِبِ هذَا الْمَقَامِ اَنْ يَكُوْنَ عَلَى شَرْعِ يَخُصُّهُ يُخَالِفُ شَرْعَ رَسُوْلِهِ الَّذِي أُرْسِلَ إِلَيْهِ وَ اُمِرْنَا بِاتِّبَاعِهِ۔“ (الیواقیت والجواہر جلد ۲ صفحه ۲۵ و ۲۸) ترجمہ: انسان کو جو نبوت ملتی ہے اس کی دو قسمیں ہیں۔قسم اول کی نبوت خدا تعالے اور اس کے بندے کے درمیان رُوح ملکی کے بغیر ہوتی ہے۔( یعنی اس میں فرشتہ شریعت جدیدہ نہیں لاتا ) بلکہ صرف خدا کی طرف سے اخبار غیبیہ ہوتی ہیں جنہیں انسان اپنے نفس میں پاتا ہے یا کچھ تجلیات ہوتی ہیں مگر ان کا تعلق کسی امر کو حلال یا حرام کرنے سے نہیں ہوتا بلکہ ان کا تعلق صرف کتاب اللہ اور سُنّتِ رسُول کے معانی سے ہوتا ہے یا کسی شرعی حکم کی جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ثابت ہو ان تجلیات کے ذریعہ تصدیق مطلوب ہوتی ہے یا کسی حکم کو جو گونقل ( روایت) کے لحاظ سے اس کی صحت ثابت ہوخرابی بتانا مقصود ہوتا ہے وغیرہ۔یہ سب امور اللہ تعالیٰ کی طرف سے متنبہ کرنے اور شریعت پر شاہد عدل (مصدق) کی حیثیت رکھتے ہیں۔اس مقام والے نبی کی اپنی کوئی خاص شریعت نہیں ہوتی جو اُس کے اُس رسُول کی شریعت کے خلاف ہو جو رسول خود