مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 180
(IA) مقام خاتم ا۔” نبی کے لفظ سے اس زمانہ کے لئے صرف خدا تعالیٰ کی یہ مُراد ہے کہ کوئی شخص کامل طور پر شرف مکالمہ و مخاطبہ الہیہ حاصل کرے اور تجدید دین کے لئے مامور ہو۔یہ نہیں کہ کوئی دوسری شریعت لاوے۔کیونکہ شریعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم پر ختم ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی پر لفظ نبی کا اطلاق بھی جائز نہیں۔جب تک اُس کو امتی بھی نہ کہا جائے۔جس کے یہ معنی ہیں کہ ہر ایک انعام اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے پایا ہے نہ براہِ راست (تجلیات الهیه صفحه ۹) پس خالد محمود صاحب کا یہ کہنا درست نہیں کہ قادیانی مکتب فکر آیت خاتم النبیین میں تفہیم کے لئے کوشاں نہیں۔صرف تحریف کے درپے ہے۔“ ( عقیدۃ الامت صفحه ۳۴) کیونکہ ہمارے اور دوسرے علماء میں صرف مسیح موعود کی شخصیت کی تعیین میں اختلاف ہے۔اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ وہ نبی بھی ہوگا اور امتی بھی۔اگر خاتم النبیین کے بعد ہمتی نبی کی ضرورت مسلم نہ ہوتی اور امتی نبی کی نبوت ختم نبوت کے منافی ہوتی اور امت کے مسیح موعود کے لئے امتی نبی اللہ ہونے پر اتفاق نہ ہوتا تو پھر ہمارے عقیدہ پر خالد محمود صاحب اعتراض کر سکتے تھے۔خود مسیح موعود کو امتی نبی مانتے ہوئے ان کو کوئی حق نہیں کہ وہ ہم پر تحریف کا الزام لگائیں۔