مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 157
(102) مقام خاتم انا حضرت شاہ ولی اللہ علیہ الرحمۃ کی تشریح چنانچہ اس حدیث کی تشریح میں حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی جو اپنے زمانہ کے مجد دتھے، تحریر فرماتے ہیں:۔باید دانست که مدلول این حدیث نیست الا استخلاف علی بر مدینه در غزوه تبوک و تشبیه دادن این استخلاف باستخلاف موسیٰ ہارون را در وقت سفر خود بجانب طور و معنی بعدی اینجا غیری است چنانچه در آیت فَمَنْ يَهْدِيهِ مِنْ بَعْدِ اللهِ گفته اند نه بعد یت زمانی (قرة العينين في تفصيل الشيخين صفحه ۲۰۶) ترجمہ: جاننا چاہئیے کہ اس حدیث کا مدلول صرف غزوہ تبوک میں حضرت علی کا مدینہ میں نائب یا مقامی امیر بنایا جانا اور حضرت ہارون سے تشبیہ دیا جانا ہے جبکہ موسی نے طور کی جانب سفر کیا اور بغدنی کے معنی اس جگہ غیری (میرے سوا کوئی نبی نہیں ) ہیں۔نہ بعد یت زمانی جیسا کہ آیت فَمَنْ يَهْدِيْهِ مِنْ بَعْدِ اللهِ میں کہتے ہیں کہ بعد اللہ کے معنی اللہ کے سوا ہیں۔پس معنی یہ ہوئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوہ تبوک میں جانے اور اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کوخلیفہ مقرر کرنے پر میرے سوا کوئی نبی نہیں۔پھر بعدیت زمانی مراد نہ ہونے کے متعلق یہ دلیل دیتے ہیں:۔زیرا کہ حضرت ہارون بعد حضرت موسیٰ نماندند تا ایشان را بعدیت زمانہ