مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 132
इतलाले مقام خاتم است ( ترجمہ ) تحقیق جو لوگ مجھ سے پہلے ہو چکے ہیں ان پر اس عقیدہ کی وجہ سے کوئی گناہ نہیں۔اور وہ بالکل بری ہیں۔(ب) لَا شَكٍّ أَنَّ حَيَاتَ عِيْسَى وَ عَقِيْدَةَ نُزُوْلِهِ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْإِضْلالِ وَلَا يُتَوَقَّعُ مِنْهُ إِلَّا أَنْوَاعُ الْوَبَالِ (استفتاء صفحه ۴۶) ( ترجمہ ) اور اب اس میں شک نہیں کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی حیات اور نزول کا عقیدہ گمراہی کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اور اس سے طرح طرح کے عذاب ( اصل لفظ وبال ہے نہ کہ عذاب ناقل ) کے 66 سوا کسی اور چیز کی توقع نہیں کی جاسکتی۔“ ( عقیدۃ الامۃ صفحہ ۲۹) واضح ہو کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کی ان دونوں تحریروں میں جو ایک ہی جگہ سے ماخوذ ہیں کوئی امر اسلامی قانون شریعت کے خلاف نہیں۔مسیح موعود کے آنے سے پہلے حیات مسیح کا عقیدہ ایک اجتہادی حیثیت رکھتا ہے اور پہلوں کا یہ اجتہادی عقیدہ از روئے شریعت اسلامی گناہ نہیں۔ہاں جب مسیح موعود آ گیا جسے حدیث نبوی میں حکم عدل قرار دیا گیا ہے اور اس نے قرآنی آیات اور احادیث نبویہ سے ثابت کر دیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام دوسرے انبیاء کی طرح وفات پاچکے ہیں تو اب حیات مسیح پر اصرار کر کے خدا کے مقرر کردہ حکم کے فیصلہ کو ٹالنا اور علماء کا اس پر اصرار کرنا واقعی اضلال ہے اور اس سے کئی قسم کے مفاسد پیدا ہوتے ہیں کیونکہ مسلمانوں میں کئی نادانوں کو اسی عقیدہ کی وجہ سے عیسائیوں نے گمراہ کرلیا ہے۔