مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 121 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 121

۱۲۱ مقام خاتم است اور حقیقۃ الوحی میں بار بارتحریر فرماتے ہیں کہ آپ ایک پہلو سے نبی ہیں اور ایک پہلو سے امتی۔تریاق القلوب میں آپ نے سچ فرمایا ہے:۔اپنے دعوئی کا انکار کرنے والوں کو کا فرقرار دینا صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔“ گویا تشریعی نبی ہوتے ہیں۔اور حقیقتہ الوحی کی عبارت میں تشریعی نبوت کے انکار کو گفر کی قسم اول قرار دیا ہے اور اپنے انکار کو تم دوم۔پس آپ کا انکار تشریعی نبی کے انکار کی طرح گفر قسم اول نہ ہوا۔جب ایک امر کی دو قسمیں قرار دی جائیں تو وہ دونوں قسمیں حقیقت میں ایک قسم نہیں ہوتیں۔ان کو ایک قسم کسی اور جہت سے ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔کیونکہ ایک شئی کی دو قسمیں ہمیشہ ایک دوسرے سے تبائین اور اختلاف رکھتی ہیں۔وہ ایک صرف اس لحاظ سے تو قرار دی جاسکتی ہیں کہ دونوں کی جنس ایک ہے لیکن نوع میں وہ ایک ہی قرار نہیں دی جاسکتیں۔پس ان دونوں کو ایک قسم اس جہت سے تو قرار دیا جا سکتا ہے کہ وہ دونوں گفر مطلق کو اپنے ساتھ جمع رکھتی ہیں۔لیکن حقیقت میں وہ ایک دوسری سے الگ الگ ہیں۔ایک قسم نہیں۔پس مولوی خالد محمود صاحب کے گبری کا مفہوم حقیقتہ الوحی کی عبارت کے پیش نظریہ ہے کہ تشریعی نبی کے انکار سے جو کفر پیدا ہوتا ہے وہ قسم اوّل ہے اور صغریٰ کے تحت درج کی جانے والی حقیقتہ الوحی کی عبارت چونکہ مسیح موعود کے انکار و تکذیب کو دوسری قسم کا کفر قرار دیتی ہے۔اس لئے یہ نتیجہ صریحا باطل اور مغالطہ ہے کہ مسیح موعود کا گفر حقیقت میں کفر قسم اول میں داخل ہے۔اس لئے آپ تشریعی نبی ہونے کے مدعی ہیں۔مسیح موعود کا انکار تو گفر قسم دوم ہی ہے نہ کہ گرفتم اول۔جو تشریعی نبی کے انکار کو