مالی قربانی ایک تعارف

by Other Authors

Page 1 of 201

مالی قربانی ایک تعارف — Page 1

مالی قربانی 1 بسم اللہ الرحمن الرحیم ابتدائیہ ایک تعارف اللہ تعالیٰ جب کسی الہی جماعت کی بنیاد رکھتا ہے تو اس جماعت کے ماننے والوں کے ایمان کو مضبوط کرنے کیلئے ان سے کچھ قربانیوں کا تقاضا فرماتا ہے، یا یوں سمجھ لیجیئے کہ خدا تعالیٰ کے قرب اور اس کی رضا کو پانے کیلئے قربانی ایک لازمی شرط ہے، اور یہ قربانی کیا ہے؟ یہ اپنے اپنے وقت اور زمانے کے حالات پر منحصر ہوا کرتی ہے مثلاً آنحضرت ﷺ کے زمانے میں مال کی قربانی بھی تھی ، لیکن جان کی قربانی زیادہ اہمیت رکھتی تھی کیونکہ کفار کی طرف سے مسلمانوں پر مظالم کا ایک سلسلہ جاری تھا اور انہی مظالم کے تحت مسلمانوں کو جنگ کے میدان میں بھی کھینچا گیا تھا۔لیکن اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں مسیح محمدی کے دور کیلئے آنحضرت ﷺ نے " يَضَعُ الْحَرْب " کی نوید سنا کر قرون اولیٰ کی مانند جنگوں اور تلوار کے جہاد کو موقوف فرما دیا اور مسیح محمدی کے فرائض میں قلمی جہاد کو شامل فرما کر مال کی قربانی کو جاری رکھا کیونکہ قلمی جہاد کیلئے مال کا ہونا لازم وملزوم کی حیثیت رکھتا ہے۔سید حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:- " کیسا یہ زمانہ برکت کا ہے۔کہ کسی سے جانیں مانگی نہیں جاتیں۔اور یہ زمانہ جانوں کے دینے کا نہیں بلکہ مالوں کے بشرط استطاعت خرچ کرنے کا ہے۔" (احکم قادیان ،۱۰ جولائی ۱۹۰۳ء) ۱۸۷۹ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب اپنی معرکۃ الآراء تصنیف براہین احمدیہ شائع کرنا چاہی تو اس وقت آپ کے پاس اتنی رقم بھی نہ تھی کہ ساری کتاب کو بیک وقت شائع فرما سکتے اس مالی پریشانی کی بابت حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:۔" جب میں نے اپنی کتاب براہین احمدیہ تصنیف کی جو میری پہلی تصنیف ہے تو مجھے یہ مشکل پیش آئی کہ اس کی چھپوائی کیلئے کچھ روپیہ نہ تھا اور میں ایک گمنام آدمی تھا۔مجھے کسی سے تعارف نہ تھا تب میں نے خدا تعالیٰ کی جناب میں دعا کی تو الہام ہوا هُرّ إِلَيْكَ بِجذع النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكَ رُطَبَاً جَنِيًّا