مالی قربانی ایک تعارف

by Other Authors

Page 127 of 201

مالی قربانی ایک تعارف — Page 127

مالی قربانی۔۔127 اور لینا ہے۔کس قدر نقصان دہ یہ بات ہے کہ مال بھی گیا حیثیت بھی گئی اور ایمان بھی گیا۔دیکھو سود کا کس قدر سنگین گناہ ہے کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں سٹور کا کھانا تو بحالت اضطرار جائز رکھا ہے چنانچہ فرماتا ہے فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغِ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِيم یعنی جو شخص باغی نہ ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا تو اس پر کوئی گناہ نہیں اللہ غفور رحیم ہے مگر سود کے لئے نہیں فرمایا کہ بحالت اضطرار جائز ہے بلکہ اس کیلئے تو ارشا د ہے یا ایها الذين آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرَوُا مَا بَقِيَ مِنَ الربوا إِنْ كُنتُمْ مُومْنِيْنَ۔فَإِنْ تَفْعَلُوا فَأَذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ - اگر سود کے لین دین سے باز نہ آؤ گے تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا اعلان ہے۔ہمارا تو یہ مذہب ہے کہ جو خدا تعالیٰ پر توکل کرتا ہے اسے حاجت ہی نہیں پڑتی مسلمان اگر اس ابتلاء میں ہیں تو یہ ان کی اپنی ہی بدعملیوں کا نتیجہ ہے۔ہند واگر یہ گناہ کرتے ہیں تو مالدار ہو جاتے ہیں مسلمان یہ گناہ کرتے ہیں تو تباہ ہو جاتے ہیں۔خَسِرَ الدُنْيَا وَالْآخِرَةُ کے مصداق پس کیا یہ ضروری نہیں کہ مسلمان اس سے باز آئیں۔" البدر قادیان ۶ فروری ۱۹۰۸ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد اول صفحہ ۷۷۲) حضور علیہ السلام مزید فرماتے ہیں:۔" انسان کو چاہیئے کہ اپنے معاش کے طریق میں پہلے ہی کفایت شعاری مد نظر رکھے تا که سودی قرضہ اٹھانے کی نوبت نہ آئے جس سے سود اصل سے بڑھ جاتا ہے۔ابھی کل ایک شخص کا خط آیا تھا کہ ہزار روپیہ دے چکا ہوں ابھی پانچ چھ سو باقی ہے پھر مصیبت یہ ہے کہ عدالتیں بھی ڈگری دے دیتی ہیں۔مگر اس میں عدالتوں کا کیا گناہ۔جب اس کا اقرار موجود ہے تو گویا اس کے یہ معنے ہیں کہ سود دینے پر راضی ہے پس وہاں سے ڈگری جاری ہو جاتی ہے۔اس سے یہ بہتر تھا کہ مسلمان اتفاق کرتے اور کوئی فنڈ جمع کر کے تجارتی طور پر اسے فروغ دیتے تاکہ کسی بھائی کوسود پر قرضہ لینے کی ایک تعارف