مالی قربانی ایک تعارف — Page 48
مالی قربانی 48 ہوتی ہے جسے وہ اپنی مرضی سے خرچ کرتا ہے۔اس لئے تقویٰ کا تقاضہ یہی ہے کہ وہ اس پوری آمد پر چندہ ادا کرے۔تاہم ایسا الاؤنس جو حکومت مخصوص حالات میں کسی بچے کو خاص مقصد ( مثلاً بیماری وغیرہ) کے لئے دے اور وہ اسی مقصد پر خرچ ہو تو اس پر والدین کے لئے چندہ ادا کرنا واجب نہیں کیونکہ ایسے الاؤنس کے، والدین امین کے طور پر ہیں۔(اسی طرح ) عام طور پر بیوی کے لئے چندہ وصیت کی ادائیگی کا طریق یہی ہے کہ اگر اس کی اپنی آمدنی کوئی نہ ہو تو اسکا خاوند مناسب جیب خرچ مقرر کرے اور وہ اسکی بیوی کی آمد متصور ہو اور اسطرح مالی قربانی کے تسلسل کو قائم رکھنے کی خاطر اس جیب خرچ پر چندہ وصیت ادا کرے۔میری اس وضاحت سے امید ہے آپ کی اُلجھن دور ہو جائے گی۔" تخفیف شرح کیلئے اجازت کا طریق کار تشخیص بجٹ کے بارہ میں ایک اور جگہ حضرت خلیفتہ اسی الثانی نے فرمایا:۔" بیت المال کو ایک غلطی لگی ہوئی ہے اور وہ یہ کہ ایسا بجٹ وصول نہ ہوگا میں کہتا ہوں نہ وصول ہومگر جماعت کو احساس تو ہوگا کہ اتنا بجٹ پورا کرنا ہے جو جماعت ایسا بجٹ پورا کرے گی وہ تعریف کے قابل ہوگی اور جو نہ پورا کرے گی اسے توجہ دلائی جائے گی۔اب دھو کہ کے طور پر کام ہورہا ہے۔جو جماعت بجٹ تو پورا کر دیتی ہے لیکن جماعت کے سب افراد سے چندہ نہیں لیتی وہ قابل تعریف قرار دی جاتی ہے اور دعاؤں کی مستحق سمجھی جاتی ہے۔لیکن جو جماعت کام کرتی ہے اور سب سے وصول کرتی ہے مگر بجٹ پورا نہیں کر سکتی اس کی دل شکنی کی جاتی ہے۔یہ درست نہیں کہ جو شخص ایک آنہ فی روپیہ سے کم چندہ دے اس سے نہ لیا جائے میرا حکم یہ ہے کہ جو اس شرح سے کم دے وہ لکھائے کہ میرے لئے یہ مجبوریاں ہیں اس لئے میں دو پیسے یا ایک پیسہ فی روپیہ کے حساب سے چندہ دیتا ایک تعارف