مالی قربانی ایک تعارف — Page 23
مالی قربانی 23 ارشادات خلفاء حضرت مسیح موعود علیہ السلام بابت مالی قربانی فرمودات حضرت خلیفہ امسیح الا قول رضی اللہ عنہ اپنے مالوں کواللہ کی راہ میں خرچ کرو انعام الہی پانے کے واسطے ضروری ہوتا ہے کہ کچھ خوف بھی ہو۔خوف کس کا ؟ خوف اللہ کا خوف دشمن کا خوف بعض نادان ضعیف الایمان لوگوں کے ارتداد کا، مگر وہ بہت تھوڑا ہوگا۔یہ ایک پیشگوئی ہے اور اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ خدا فرماتا ہے کہ میری راہ میں کچھ خوف آوے گا، کچھ جوع ہوگی۔جوع یا تو روزہ رکھنے سے ہوتی ہے۔مطلب یہ ہے کہ کچھ روزے رکھو اور یا اس رنگ میں جوع اپنے اوپر اختیار کرو کہ صدقہ خیرات اس قدر نکالو کہ بعض اوقات خود تم کو فاقہ تک نوبت پہنچ جاوے۔اپنے مالوں کو خدا کی راہ میں اتنا خرچ کرو کہ وہ کم ہو جاویں۔اور جانوں کو بھی اس کی رہ میں خرچ کرو۔علیٰ ہذا پھلوں کو بھی خدا کی راہ میں خرچ اپنے مالوں کو خدا کی ہدایت کے مطابق خرچ کرو " ( خطبه جمعه ۵ /جون ۱۹۰۸ء) انسان کہ عالم صغیر ہے اس کی مملکت کے انتظام کیلئے بھی ایک ملک کی حاجت ہے۔پھر انسان اپنی حاجتوں کیلئے کسی حاجت روا کا محتاج ہے۔ان تینوں صفتوں کا حقیقی مستحق اللہ ہے۔اس کی پناہ میں مومن کو آنا چاہئے تا چھپے چھپے، پیچھے لے جانے والے، مانع ترقی وسوسوں سے امن میں رہے۔اسلام کی حالت اس وقت ایک تعارف