مالی قربانی ایک تعارف — Page 61
مالی قربانی 61 یہ فیصلہ ہے جس سے میں جماعتوں کو ان نمائندوں کے ذریعہ آگاہ کرنا چاہتا ہوں جو یہاں آئے ہوئے ہیں نرمی سے سمجھا سمجھا کر ہم نے دیکھ لیا ہے۔ان نمائندوں کا فرض ہے کہ یا تو وہ کوئی ایسا طریق اختیار کریں کہ کوئی احمدی کہلا کر ناد ہند نہ رہے۔یا پھر وہ طریق اختیار کریں جو میں نے بتایا ہے کہ نادہندگان کی مرکز میں اطلاع دیں اگر انہوں نے اس نقص کو دور نہ کیا تو ان سے باز پرس ہوگی اور مندرجہ ذیل سزاؤں میں سے کوئی ایک انہیں دی جائے گی۔یا انہیں آئندہ کیلئے نمائندہ تسلیم نہیں کیا جائے گایا جماعت میں کوئی عہدہ نہیں دیا جائے گا یا انہیں میرے ساتھ ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اگر پھر بھی پرواہ نہ کی گئی تو جماعت ان سے بے تعلقی کا اظہار کرے گی کیونکہ انہوں نے جماعت کو سنبھالنے کا فرض ادا نہیں کیا۔" نادہندگان کی اصلاح حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے خطبہ جمعہ " رنومبر ۱۹۴۹ء میں فرمایا:۔" پہلا طریق تو یہی ہے اور اسی کی ہی ہم تم سے امید کرتے ہیں کہ تم محبت اور پیار سے لوگوں کو سمجھاؤ لیکن اگر تم کہتے ہو کہ ہم نے سارا زور لگالیا مگر وہ اپنی اصلاح نہیں کرتے اگر سال گذرتا چلا جاتا ہے اور وہ بیدار نہیں ہوتے تو تم کیوں اس کے متعلق لمبی امیدیں کرتے چلے جاتے ہو تم کیوں نہیں سمجھ لیتے کہ وہ مرچکے ہیں اور مرے ہوئے کو بیدار کرنے کی کوشش کرنا ہر گز دانائی نہیں کہلا سکتی تم کیوں ان کی وجہ سے اپنے لئے ذلت سہیڑتے ہو۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی زیادہ رحمدل ہو کہ اس پر عمل نہیں کرتے۔کہتے ہیں ماں سے زیادہ چاہے پھیپھے کٹنی کہلائے یہ ایک تیسری بات ہے جس کی طرف میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں یہ جماعت کی اصلاح کا ایک آسان طریق ہے۔جب اس طریق کو تم اختیار کرو گے تو تمہیں نظر آئے گا کہ جو لوگ غافل ہیں وہ سارے کے سارے بے ایمان نہیں وہ بھی ایماندار ہیں صرف ان کے دلوں پر زنگ لگا ہوا ہے جب وہ جماعت سے خارج کئے جائیں گے تو ان میں سے کم سے کم آدھے ضرور واپس آئیں گے اور توبہ کریں گے پھر ایک تعارف