مالی قربانی ایک تعارف — Page 60
مالی قربانی 60 والوں کی وجہ سے ہو سکتی ہے اس کیلئے یہ راستہ رکھ دیا گیا ہے۔اس طرح آمد کا بجٹ اور بھی زیادہ یقینی ہو گیا۔مگر باوجود ان ساری باتوں کے بالعموم جماعتیں نہ تو ان سہولتوں سے فائدہ اٹھاتی ہیں اور نہ بجٹ پورا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔اب بھی کہا جاتا ہے کہ بعض لوگ با شرح چندہ نہیں دیتے اس لئے کمی رہ گئی۔لیکن جب کہا جائے کہ اس وجہ سے اجازت ہے کہ کمی کرالیں تو کہتے ہیں سستی ہو جاتی ہے۔بعض کہتے ہیں فلاں شخص اپنی طرف سے درخواست نہیں کرنا چاہتا اس کے لئے یہ علاج ہے کہ اس سے با شرح چندہ کا مطالبہ کریں اور جب وہ نہ دے تو دفتر کو اطلاع دیں۔دفتر اس سے مطالبہ کرے گا۔اس پر جب وہ جواب دے گا کہ فلاں وجہ سے وہ با شرح نہیں دے سکتا تو پھر اس کی کمی کو مد نظر رکھ کر بجٹ میں کمی کر دی جائے گی اور اگر کوئی چندہ دینے سے انکار کرے گا تو اسے جماعت سے نکال دیا جائے گا۔یہ ایسی صاف بات ہے کہ کوئی منطقی طور پر اس کا انکار نہیں کر سکتا ہے۔اور ان حالات میں بجٹ پورا نہ کرنے کی ساری ذمہ داری جماعتوں پر پڑتی ہے۔زیادہ سے زیادہ یہی کہا جاسکتا ہے کہ ہمیں اس بات کا پتہ نہ تھا مگر پتہ لگانا ان کا کام تھا۔" بقایادار خدا کے نزدیک جواب دہ ہے حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ۱۹۳۳ء کی مجلس مشاورت میں فرمایا:۔یا د رکھنا چاہیئے بجٹ کو پورا کرنا مجھ پر احسان نہیں نہ سلسلہ پر احسان ہے نہ خدا پر احسان ہے۔جو خدا کے دین کی خدمت کیلئے کچھ دیتا ہے وہ خدا تعالیٰ سے سودا کرتا ہے اور اس سودا کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے خدا کے نزدیک جواب دہ ہے اور جس قدر کمی رہتی ہے وہ اس کے نام بقایا ہے اگر وہ اس دنیا میں ادا نہیں کرتا، تو جب خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہو گا خدا تعالیٰ فرمائے گا جاؤ جہنم میں بقایا ادا کر کے آؤ۔" نمائندگان مجلس مشاورت کا فرض حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ۱۹۳۳ء کی مجلس مشاورت میں فرمایا:۔ایک تعارف