مالی قربانی ایک تعارف — Page 58
مالی قربانی 58 ایک تعارف سے اپنی آمد بتا دینی چاہیئے اللہ تعالیٰ اس بیچ کے عوض اس کے روپیہ میں برکت دے گا۔پس یہ تجویز غیر طبعی ہے اور اس بات کی کوئی وجہ نہیں کہ تاجر اپنی آمد نہ بتا ئیں۔اگر کوئی تاجر اتنا بھی نہیں بتاتا کہ اس کی آمد کیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سارا بوجھ تنخواہ دار کارکنوں پر ڈال دیا جائے اور وہ چندوں سے چھوٹ جائیں۔" اسی طرح زمیندار احباب اپنی آمد کا اندازہ تین سالہ اوسط پیداوار سے بھی لگا سکتے ہیں۔سال کے دوران سب فصلوں پر حاصل ہونے والی آمد پر چندہ واجب ہے۔اگر کسی کو اس میں مشکل نظر آتی ہو تو وہ اس علاقہ میں ٹھیکہ کی رقم سے بھی اندازہ کر سکتا ہے۔متفرق امور بابت وصولی و ادائیگی چندہ دہندہ کی آمد کا ذریعہ جہاں کہیں بھی ہو چندہ کی ادائیگی اسی جماعت میں ہوگی جہاں اس کی مستقل رہائش ہے اور وہ اسی جماعت کے بجٹ میں شامل ہوگا۔اگر کوئی فرد جماعت اپنی مستقل رہائش کے علاوہ کسی اور جگہ چندہ دینا چاہتا ہے تو پھر نیشنل مرکز سے اس امر کی تحریری اجازت حاصل کرنا ضروری ہے۔اجازت ملنے پر چندہ دہندہ اپنی اس جماعت کو جہاں اس کی مستقل رہائش ہے، اس امر سے مطلع کرے گا۔اگر کسی فرد جماعت کی رہائش کسی ایسی جگہ ہے جہاں نظام جماعت قائم نہیں تو وہ ادا ئیگی چندہ کیلئے نیشنل جماعت سے راہنمائی حاصل کرے۔۔ایسے احباب جن کی آمدنی کے ذرائع ایک سے زائد ممالک میں ہوں وہ متعلقہ ممالک میں ہی چندہ ادا کریں گے۔اگر اس امر میں انہیں کوئی مشکل پیش آئے تو وہ وکالت مال لندن سے رابطہ کر کے راہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔ایسے احباب جو بیرون پاکستان رہائش رکھتے ہوں لیکن ان کی آمد کا ذریعہ صرف پاکستان میں ہی ہو تو وہ اپنی آمد اور جائیداد پر چندہ پاکستان کی متعلقہ جماعت میں ہی ادا کریں گے۔کٹوتی پراویڈنٹ فنڈ کی رقم کو آمد سے منہانہ کیا جائے۔بعد ریٹائرمنٹ اس رقم پر دوبارہ چندہ کی ادا ئیگی نہ ہوگی صرف منافع پر ہی چندہ ادا کرنا ہوگا۔اگر پراویڈنٹ فنڈ منہا کیا گیا ہوتو اس رقم اور منافع دونوں پر چندہ واجب ہوگا۔