مالی قربانی ایک تعارف — Page 47
مالی قربانی 47 چندہ ادا کرے۔تاہم ایسا الاؤنس جو حکومت مخصوص حالات میں کسی بچے کو خاص مقصد ( مثلاً بیماری وغیرہ) کے لئے دے اور وہ اسی مقصد پر خرچ ہوتو اس پر والدین کے لئے چندہ ادا کرنا واجب نہیں ہے۔کیونکہ ایسے الاؤنس کے، والدین امین کے طور پر ہیں۔ہمارے جماعتی نظام میں بھی جب کسی مبلغ کا الاؤنس مقرر کیا جاتا ہے تو فارمولہ کے طور پر یہی طریق اختیار کرتے ہیں کہ مبلغ کا بنیادی الاؤنس اتنا۔بیوی کے لئے اتنا اور بچوں کے لئے اتنا اور اس طرح ملا کر مبلغ کا گل الاؤنس اتنا۔لیکن اس سے ہرگز یہ مراد نہیں ہوتی کہ جس شرح (فارمولہ ) سے الاؤنس مقرر کیا گیا ہے اسی شرح سے مبلغ کے بیوی بچوں میں وہ الاؤنس تقسیم ہو۔بلکہ یہ پورا الا ونس اس مبلغ کی اپنی آمد ہوتی ہے جس پر وہ پوری شرح سے اپنا چندہ ادا کرتا ہے۔۔اس کے باوجوداگر کوئی دوست سوشل الاؤنس میں ملنے والے بچوں کے الاؤنس کی تشریح اپنی مرضی سے کر کے اپنے چندہ میں چھوٹ لینا چاہتا ہے تو ایسا کیس انفرادی طور پر مجھے بھجوا دیں تو پھر اس پر میں غور کرونگا۔" مکتوب بنام مکرم امیر صاحب ناروے محرره ۱۳ اگست ۱۹۹۳ء) پھر ٹیم کے ایک دوست کے استفسار پر حضور فرماتے ہیں جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ آپ اپنے ملنے والے سوشل الاؤنس میں سے بچوں کا الاؤنس نکال کر چندہ وصیت ادا کر رہے ہیں تو یہ تقویٰ کے خلاف بات ہے جسکا ایک ثبوت آپ کا اپنا یہ فقرہ ہے" یہ بات گزشتہ کچھ عرصہ سے ہمارے لئے اُلجھن کا باعث ہے اسی وجہ سے ہم بشاشت کے ساتھ حصہ آمد ادا کرنے کا لطف نہیں اُٹھا پار ہے۔" "حقیقت یہی ہے کہ عام حالات میں حکومت کی طرف سے ایک خاندان کو ( بیوی بچوں کا ) جو سوشل الاؤنس ملتا ہے وہ دراصل اس خاندان کے سربراہ کی اپنی آمدنی ایک تعارف