مالی قربانی ایک تعارف — Page 37
مالی قربانی 37 ضروری ہے کہ اپنے ہر قسم کے معاملات خدا تعالیٰ کے ساتھ صاف ہوں۔" اللہ کی راہ میں اپنے پاک مالوں سے خرچ کریں (خطبه جمعه ۶ / جون ۲۰۰۳ء) " حضرت عقبہ بن عامرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن حساب کتاب ختم ہونے تک انفاق سبیل اللہ کرنے والا اللہ کی راہ میں خرچ کئے ہوئے اپنے مال کے سایہ میں رہے گا۔(مسند احمد بن حنبل ) لیکن شرط یہ ہے کہ یہ خرچ کیا ہوا مال پاک ہو، پاک کمائی میں سے ہو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سے اتنے اجرا گر لینے ہیں اور اپنے مال کے سائے میں رہنا ہے تو گند سے تو اللہ تعالیٰ ایسے اعلیٰ اجر نہیں دیا کرتا۔اور جن کا مال گندہ ہوا ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والے نہیں ہوتے اور اگر کہیں خرچ کر بھی دیں اگر لاکھ روپیہ جیب میں ہے اور ایک روپیہ نکال کر بھی دیں گے تو سو آدمیوں کو بتا ئیں گے کہ میں نے نیکی کی ہے۔لیکن نیک لوگ، دین کا دردر کھنے والے لوگ ، جن کی کمائی پاک ہوتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور پھر کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہواور اللہ تعالیٰ بھی ان کی بڑی قدر کرتا ہے۔" خطبه جمعه ۹ / جنوری ۲۰۰۴ء) نو مبائعین کو چندہ میں شامل کریں " انکو بھی اگر شروع میں یہ عادت ڈال دی جائے کہ چندہ دینا ہے ، یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اسکے دین کی خاطر قربانی دی جائے اور پھر اس سے ایمان میں ترقی ہوتی ہے تو ان کو بھی عادت پڑ جاتی ہے۔بہت سے نو مبائعین کو بتایا ہی نہیں جاتا کہ انہوں نے کوئی مالی قربانی بھی کرنی ہے۔یہ بات بتانا بھی انتہائی ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے جو لوگ مالی قربانیاں نہیں کرتے ان کا ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔اب اگر ہندوستان ( انڈیا ) اور افریقن ممالک میں یہ عادت ڈالی ایک تعارف