مالی قربانی ایک تعارف — Page 186
مالی قربانی 186 ANNEXURE V فارم وصیت دفتری استعمال کے لئے وصیت نمبر بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَلَهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ولد ، بنت زوجه، بیوه تاریخ پیداش عمر تاریخ بیعت ایک تعارف موجودہ پتہ مستقل پند- ضروری نوٹے (یہاں پیشہ کی نوعیت، ملازمت سرکاری نیم سرکاری پرائیویٹ کی نوعیت کا روبان تجارت کی نوعیت وضاحت سے لکھیں نیز اگر طالبعلم ہیں تو کلائی اور کوری لکھیں؟ بقائمی ہوش و حواس بالا جبر و اکراہ آج بتاریخ حسب ذیل وصیت کرتا کم کرتی ہوں۔اول میں حضرت میرزاغلام احمد مسیح موعود بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ قادیان ضلع گورداسپور پنجاب کالہ کی بیرو ہوں اور ان کے تمام دعا وکی پر صدق دل سے ایمان رکھتا ر کھتی ہوں میں نے حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کا رسالہ الوصیت محمر به ۲۳ دسمبر ۱۹۰۵ ء نعیمہ رسالہ الوصیت مورخہ 4 جنور کی ۱۹۰۶ ء و ریزولیوشن مجلس معتمدین صدر انجمن احمد یہ قادیان اجلاس اول منعقده ۲۹ جنوری ۱۹۰۲ء مصدر حضرت مسیح موعود بائی سلسلہ عالیہ احمد یہ تمام و کمال پڑھ اور سن لیا ہے۔اور میں ان تمام ہدایات کا جو اس میں مندرج ہیں اپنے آپ کو پابند قرار دیتا کہ دیتی ہوئی۔اور میں ان ہدایات کی روشنی میں وصیت کرنا م کرتی ہوں کہ میرے مرنے کے بعد فش کو بہشتی مقبرہ واقعہ قادیان میں دفن کرنے کے لئے قادیان پہنچایا جائے بیٹر یک مجلس کا رپرداز مصارح قبرستان کی طرف سے ایسا کرنے کی مجھے یا میرے بعد میرے ورثا کو اجازت حاصل ہو جائے اور نعش کو قادیان پہنچانے کے اخراجات اگر میں فوت ہونے سے پہلے خزانہ صدر انجمن احمد یہ ربوہ میں جمع نہ کر سکا اسکی تو میر کی جائیداد مترو کہ میں سے وضع کئے جائیں لیکن ایسے اخراجات کا اثر اس حصہ جائید او پر نہ پڑیگا جو میں اس وصیت کی رو سے صدر انجمن احمد یہ ریو و کو دیتا کر دیتی ہوں۔دوم رسالہ الوصیت کے بعد مقدر ہدایات یا احکام حضرت خلیرہ آتی اور اللہ تعالی تصرم احزیز کی طرف سے یا صدر انجمن احمدیہ پاکستان ریو یا صدر انجمن احمد به او این با مجلس کارپردار مصالح قبرستان قادریان / ربوہ کی طرف سے متعلق مقیرہ بہشتی یا موسیان جار گیا ہو گے ان ہدایات اور احکام کا جہاں تک وصیت سے تعلق ہے میں اور میر ے ورنہ ویا بند ہوں گے۔موم میری وصیت جو میر کی آخری وصیت ہے ہر طرح صحیح اور قائم رہے گی خواد میری نعش بہشتی مقبرہ میں دفن ہو سکے یا نہ ہو سکے۔چہارم۔میں اقرار قانونی اور شرعی کرنا کم کرتی ہوں کہ اپنی وصیت کے حوالے سے جس نوعیت کا چند بھی ادا کروں گا گی و محض اللہ ادائیگی ہوگی اور مجھے اور میر سے کسی مزیز یا وارث کو کبھی اور کسی حالت میں ہی ادا شد و چندہ کی واپسی کے مطالبہ کا حق نہ ہوگا۔پنجم: میں نے اپنی حیثیت کے لحاظ سے مسلط روپے چند شرط اول کے طور پر اور مبلغ روپے اعلان وصیت کے لئے بذریعہ رسید نمیر مقامی جماعت خزانہ صدر الیمین احمدیہ پاکستان ربوہ میں ادا کر دیتے ہیں۔مورة 1 قوٹ:- یہاں وصیت کننده اپنی آمد، جائیداد اور شرح وصیت وغیرہ کا اندراج کرے۔نیز کوئی اندراج مشکوک و مشکوک نہ ہو اور صاف ہو، دو قلموں یا سیاہیوں سے لکھا نہ ہو۔میں وصیت کرتا کرتی هوں که میری وفات پر میری کل مترو که جائیداد منقوله و غیر منقوله کی۔حصہ کی مالک صدر انجمن احمدیه پاکستان ربوه هو گی اس وقت میری کی جائیداد منقوله و غیر منقولہ کی تفصیل حسب ذیل ھے جس کی موجودہ قیمت درج کر دی گئی ھے اس وقت میری کوئی جائیداد نہیں ھے۔