مالی قربانی ایک تعارف

by Other Authors

Page 168 of 201

مالی قربانی ایک تعارف — Page 168

مالی قربانی 168 ایک تعارف (۲) لیکن اگر فروخت سے حاصل ہونے والی رقم میں مزید کچھ رقم ڈال کر نئی جائیداد خریدی جائے تو اس جائیداد میں نئی ڈالی گئی رقم کے تناسب سے اس جائیداد کے اس حصہ پر حصہ وصیت واجب الادا ہوگا جس تناسب سے رقم ڈالی گئی۔لیکن ایسی جائیداد سے بھی حاصل ہونے والی آمد پر (اگر) کوئی ہو ) چندہ وصیت کل آمد پر واجب الادا ہو گا ( بشر ح ۱/۱۹)۔(۳) حصہ وصیت ادا کر چکنے کے بعد جمع شدہ نقدی اصل حالت میں رہے تو اس پر حصہ وصیت واجب الادا نہ ہوگا۔البتہ نقد رقم سے حاصل ہونے والی آمد یا منافع پر حصہ وصیت واجب الادا ہوگا۔سوال:۔زیورات فروخت کر کے حاصل کرنے والی اشیاء کے متعلق کیا صورت ہوگی؟ جواب:۔ایسے زیورات جن پر حصہ وصیت ادا کیا جاچکا ہے، کو فروخت کر کے اگر کوئی نئے زیورات اسی قدر رقم سے خریدے جائیں جتنے میں پہلے فروخت کئے گئے تھے تو ایسی صورت میں نئے خرید کردہ زیورات پر حصہ وصیت واجب الادا نہ ہوگا۔البتہ دفتر وصیت کو یہ اطلاع واضح طور پر دینا ہوگی کہ مندرج نئے نئے زیورات کی قسم اور وزن کی تفصیل ساتھ منسلک کریں) زیورات سابقہ زیورات کی فروخت سے حاصل شدہ رقم سے خریدے گئے ہیں۔لیکن اگر فروخت سے حاصل ہونے والی رقم میں مزید کچھ رقم ڈال کر نئے زیورات خرید کئے جائیں تو ان نئے زیورات میں نئی ڈالی گئی رقم کے تناسب سے حصہ وصیت واجب الادا ہو گا جس تناسب سے رقم ڈالی گئی ہو۔سوال:۔کیا ایسی جائیداد جو مار گیج / قرض پر لی گئی ہو ئی وصیت کرتے وقت ایسی جائیداد وصیت فارم میں درج کرنا ضروری ہے یا نہیں؟ جواب:۔ایسی کوئی بھی جائیداد جو مار گیج قرض پر لی گئی ہو، وہ وصیت کنندہ کی ہی جائیدا تصو ر ہوگی اور اس کا اندراج وصیت کرتے وقت وصیت فارم میں کیا جانا ضروری ہوگا۔اس کے علاوہ ایسی جائیداد کی اندازه مالیت اور ایڈریس بھی درج کرنا ہوگا۔اس کے علاوہ اگر بعد وصیت بھی ایسی کوئی جائیداد خریدی جائے تو اس کی اطلاع مرکز کو کرنا ضروری ہوگا۔سوال مار گیج / قرض پر لی گئی جائیداد کے متعلق اصولی طرز عمل کیا ہے؟