مالی قربانی ایک تعارف — Page 167
مالی قربانی 167 ایک تعارف سوال : کیا روز مرہ استعمال کی اشیاء مثلاً ٹی وی، کمپیوٹر ، گاڑی وغیرہ دوران وصیت بصورت جائیدادا لکھوائے جاسکتے ہیں؟ جواب:۔مندرجہ بالا اشیاء گھر یلو استعمال کے زمرے میں آتی ہیں۔لہذا ان اشیاء پر وصیت لاگو نہیں۔سلائی مشین پر بھی وصیت لاگو نہ ہے۔اسی طرح کیمرہ ، ٹیپ ریکارڈر، وی سی آروغیرہ بھی گھر میلو استعمال کی اشیاء ہیں۔سوال:۔بیرون ممالک میں اکثر جائیداد میاں بیوی کے نام پر ( نصف نصف) مشتر کہ ہوتی ہے ایسی صورت میں اگر ان میں سے صرف ایک موصی ہو تو اس پر کتنے حصہ کی وصیت واجب الادا ہے؟ جواب:۔(۱) اگر جائیداد کے حصول میں ہر دو میاں بیوی کی رقم برابر لگی ہوئی ہے اور ان میں سے موصی صرف ایک ہے تو اس کو نصف جائیداد پر حصہ جائیداد واجب الادا ہو گا۔(۲) لیکن اگر صرف ملکی قانون کی وجہ سے حصہ دار ہیں اور ان دونوں میں سے صرف ایک کی رقم لگی ہوئی ہے تو جس کی رقم لگی ہے اور وہ موصی ہے، تو پوری جائیداد پر حصہ جائیداد ادا کرنے کا پابند ہوگا۔اگر دوسرا فریق موصی ہے جس کی رقم نہیں لگی ہوئی تو یہ جائیداد اس کی شمار نہ ہوگی ، اور نہ ہی اس پر اس کا حصہ جائیدا د واجب الادا ہو گا۔(۳) ملکی قانون شریعت پر لاگو نہیں ہو سکتا۔اس لئے اس ( ملکیت) کی وضاحت کی جانی ضروری ہوگی۔پہلے فریق کی وفات کے بعد ترکہ شمار ہو کر اگر دوسرا فریق موصی ہو تو اُس کو شرعی حصہ کے مطابق وصیت ادا کرنا ہوگی۔سوال:۔اگر کسی جائیداد کا حصہ جائیدا ادا ہو چکا ہو اور پھر اسے فروخت کر کے کوئی نئی جائیداد خرید لی جائے تو کیا اس پر بھی حصہ جائیداد ادا کرنا ہو گا ؟ جواب:۔زمین ، مکان ، پلاٹ جیسی ملکیت کو فروخت کر کے حاصل ہونے والی رقم کے متعلق درج ذیل صورت ہوگی :۔(۱) اگر اسی قدر رقم سے یا اس سے کم رقم میں کوئی نئی جائیداد خریدی جائے تو ایسی نئی جائیدا پر حصہ وصیت واجب الادا نہ ہوگا۔البتہ ایسی جائیداد سے حاصل ہونے والی آمد پر (اگر کوئی ہو ) چندہ وصیت واجب ہوگا ( بشرح ۱/۱۶)۔