مالی قربانی ایک تعارف — Page 160
مالی قربانی 160 انشورنس ایک تعارف اگر انشورنس میں سود اور جواء کی صورت نہ پائی جاتی ہو تو جائز ہے ورنہ نا جائز ہے۔اس بارہ میں مجلس افتاء کی سفارشات جنہیں حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے ۲۳ جون ۱۹۸۰ ء کو منظور فرمایا درج ذیل ہیں :۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ امسیح الثانی کے فتاویٰ کے مطابق جب تک معاہدات سود اور قمار بازی سے پاک نہ ہوں بیمہ کمپنیوں سے کسی قسم کا بیمہ کروانا جائز نہیں ہے۔یہ فتاویٰ مستقل نوعیت کے اور غیر مبدل ہیں البتہ وقتا فوقتا اس امر کی چھان بین ہو سکتی ہے کہ بیمہ کمپنیاں اپنے بدلتے ہوئے قوانین اور طریق کار کے نتیجہ میں قمار بازی اور سود کے عناصر سے کس حد تک مبرا ہو چکی ہیں۔مجلس افتاء نے اس پہلو سے بیمہ کمپنیوں کے موجودہ طریق کار پر نظر کی ہے اور اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اگر چہ رائج الوقت عالمی مالیاتی نظام کی وجہ سے کسی کمپنی کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنے کاروبار میں کلیتہ سود سے دامن بچا سکے لیکن اب کمپنی اور پالیسی ہولڈر کے درمیان ایسا معاہدہ ہو ناممکن ہے جو سودا اور قمار بازی کے عناصر سے پاک ہو اس لئے اس شرط کے ساتھ بیمہ کروانے میں حرج نہیں کہ بیمہ کروانے والا کمپنی سے اپنی جمع شدہ رقم پر کوئی سود وصول نہ کرے۔" (رجسٹر فیصلہ جات مجلس افتاء صفحه ۶۰) مناسب ہوگا کہ بیمہ کروانے والا شخص بیمہ کروانے سے پہلے مجلس افتاء کو پوری معلومات مہیا کر کے با قاعدہ فتویٰ لے کر بیمہ کروائے۔اگر کسی حکومتی ادارہ میں ملازمت کی صورت میں یا در پیش حالات میں بیمہ پالیسی لازمی ہو تو یہ صورت اس سے مستفی ہوگی۔