مالی قربانی ایک تعارف — Page 156
مالی قربانی 156 ایک تعارف اہل نہیں رہے گا۔اگر ایسے شخص کے خلاف دوسری مرتبہ کوئی تعزیری کاروائی ہو تو ایسا شخص ہمشہ کیلئے کسی بھی جماعتی عہدے کے لئے نا اہل قرار پائے گا۔امیر / صدر اور آڈیر جو اس سلسلہ میں اپنے فرائض سے کوتا ہی برتنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔وہ بھی اس نقصان کی ادائیگی کے ذمہ دار ہونگے۔قاعدہ نمبر (235) امیر کی منظوری سے کوئی جماعت اپنے ممبران سے لوکل فنڈ کی اپیل کر سکتی ہے۔جو کہ اس جماعت کے لازمی چندہ جات کی مجموعی رقم کے ایک فیصد سے زائد نہیں ہوسکتی۔اسی طرح اگر ملکی سطح پر ایسی کوئی اپیل کرنا مطلوب ہو تو مرکز سے قبل از وقت اجازت لینا ضروری ہوگا۔قاعدہ نمبر 236) ۱۹۔ہر مقامی جماعت اپنی آمد و خرج کا بشمول اس گرانٹ کے بجٹ تیار کرے گی جو اسے نیشنل ہیڈ کوارٹر سے دی گئی ہو۔یہ بجٹ مقامی مجلس عاملہ میں منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔خرچ اس بجٹ کے مطابق عاملہ سے قبل از وقت اجازت حاصل کرنا ضروری ہوگی۔۲۲۔کیا جائے گا اور نیشنل ہیڈ کوارٹر کی ہدایت کے تابع اس آمد و خرچ کا حساب رکھا جائے گا۔ان اخراجات کی جانچ پڑتال کی ذمہ داری نیشنل آڈیٹر پر ہوگی۔( قاعدہ نمبر 237) کوئی بھی مقامی جماعت اپنے ممبران سے مقامی سطح پر ہنگامی ضروریات کے پیش نظر خصوصی طور پر رقم اکٹھی کر سکتی ہے۔بشرطیکہ اسکا اثر مرکزی چندہ جات کی وصولی پر نہ پڑے لیکن ایسی صورت میں نیشنل مجلس قاعدہ نمبر 238 مقامی چندہ سے بنیادی طور مراد وہ چندہ ہے، جو مقامی ضروریات کے لیے اکھٹا کیا جاتا ہے۔مثلاً مقامی مسجد کی دیکھ بھال ، مرکزی چندہ جات کے حصول پر اٹھنے والے اخراجات، مہمان نوازی ، مقامی دعوت الی اللہ ، مقامی تعلیم ، ڈاک، سٹیشنری اور دیگر متفرق اخراجات۔قاعدہ نمبر 239) ۲۳۔اگر کوئی جماعت اتنا لوکل فنڈ اکٹھانہ کر سکے جو اس کی مقامی ضروریات کیلئے کافی ہو تو اس صورت میں نیشنل مجلس عاملہ اس جماعت کو گرانٹ دینے کے بارہ میں غور کر سکتی ہے۔لیکن صرف وہی جماعتیں اس گرانٹ کو لینے کی حقدار ٹھریں گی جنہوں نے اپنے لازمی چندہ جات کا کم از کم %80 وصول کر لیا ہو۔عام حالات میں یہ گرانٹ اصل وصول شدہ لازمی چندہ جات کے %10 سے زائد نہ ہوگی۔لیکن مخصوص حالات میں یہ گرانٹ %25 تک بڑھائی جاسکتی ہے بشرطیکہ فنڈ زموجود ہوں۔نیشنل مجلس عاملہ اس بات کا اختیار رکھتی ہے کہ جب کبھی مناسب سمجھے اس گرانٹ پر نظر ثانی کرے۔( قاعدہ نمبر 240)