مالی قربانی ایک تعارف

by Other Authors

Page 128 of 201

مالی قربانی ایک تعارف — Page 128

مالی قربانی 128 حاجت نہ ہوتی بلکہ اسی مجلس سے ہر صاحب ضرورت اپنی حاجت روائی کر لیتا اور میعاد مقررہ پر واپس دے دیتا۔" (البدر قادیان ۶ فروری ۱۹۰۸ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد اول صفحہ۷۷۲) پھر حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔" سود کا روپیہ تصرف ذاتی کے واسطے ناجائز ہے۔لیکن خدا کے واسطے کوئی شے حرام نہیں۔خدا کے کام میں جو مال خرچ کیا جائے وہ حرام نہیں ہے۔اس کی مثال اس طرح سے ہے۔کہ گولی بارود کا چلانا کیسا ہی ناجائز اور گناہ ہو۔لیکن جو شخص اسے ایک جانی دشمن پر مقابلے کے واسطے نہیں چلا تا وہ قریب ہے۔کہ خود ہلاک ہو جائے کیا خدا نے نہیں فرمایا کہ تین دن کے بھوکے کے واسطے سٹور بھی حرام نہیں بلکہ حلال ہے۔پس سود کا مال اگر ہم خدا کیلئے لگائیں تو پھر کیونکر گناہ ہوسکتا ہے۔اس میں مخلوق کا حصہ نہیں لیکن اعلائے کلمہ اسلام میں اور اسلام کی جان بچانے کیلئے اس کا خرچ کرنا ہم اطمینان اور شلج قلب سے کہتے ہیں۔کہ یہ بھی فَلَا اثْمَ عَلَيْهِ میں داخل ہے۔یہ ایک استثناء ہے۔اشاعت اسلام کے واسطے ہزاروں حاجتیں ایسی پڑتی ہیں جن میں مال کی ضرورت ہے۔" ( البدر قادیان ، ۲۹ ستمبر ۱۹۰۵ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد اول صفحہ ۷۷) پھر حضور فرماتے ہیں:۔" اشاعت اسلام کیلئے روپیہ کی ضرورت ہے اور اس پر اگر وہ روپیہ جو بنکوں کے سود سے آتا ہے خرچ کیا جاوے تو جائز ہے کیونکہ وہ خالص خدا کیلئے ہے۔خدا تعالیٰ کیلئے وہ حرام نہیں ہے۔جیسے میں نے ابھی کہا ہے کہ کسی جگہ کا سکہ و بارود ہو وہ جہاد میں خرچ کرنا جائز ہے یہ ایسی باتیں ہیں کہ بلا تکلف سمجھ میں آجاتی ہیں۔کیونکہ بالکل صاف ہیں۔اللہ تعالیٰ نے سٹور کو حرام کیا ہے لیکن بایں ہمہ فرماتا ہے فَمَنِ اضْطُرَ غَيْرَ باغ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ جب اضطراری حالت میں اپنی جان بچانے کی خاطر سکور کا کھانا جائز ہے تو کیا ایسی حالت میں کہ اسلام کی حالت بہت ضعیف ہو گئی ہے ایک تعارف