مالی قربانی ایک تعارف

by Other Authors

Page 126 of 201

مالی قربانی ایک تعارف — Page 126

مالی قربانی 126 ایک تعارف رمایا:۔دیتے ، وہ بعض اوقات ایسا ہوتا تھا کہ اصل سے دو چند، سہ چند ہوتا۔ایسی صورتیں جائز ہیں کہ اگر کسی اپنے دوست سے روپیہ لے اور کوئی شرط اس کے ساتھ طے نہ ہو تو صلہ مواسات کے طور پر کچھ بڑھا کر دے دے۔لیکن جیسے آج کل عام طور پر مروج ہے کہ پہلے سود کا فیصلہ ہو جاتا ہے یہ جائز نہیں بلکہ حرام ہے۔ایمان بڑی بابرکت چیز ہے۔مومن کو اللہ تعالیٰ ایسی مشکلات میں نہیں ڈالتا مومن اپنے رب کی نسبت یقین رکھتا ہے کہ وہ ہر شئے پر قادر ہے۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِ شَيْءٍ قَدِير مومن کو یہ ضرورت نہیں ہوتی اگر ہوتی ہے تو وہ خود کفیل ہو جاتا ہے سود تو کوئی چیز نہیں اگر اللہ تعالیٰ مومن کو کہتا ہے کہ تو زمین کا پانی نہ پیا کر تو میں ایمان رکھتا ہوں کہ اس کو آسمان سے پانی ملتا۔جس قدر ضعف اور لاچاری ہوتی ہے اسی قدر ایمان کی کمزوری ہوتی ہے کوئی گناہ چھوٹ نہیں سکتا جب تک اللہ تعالیٰ توفیق اور قوت نہ دے۔جب وہ قوت عطا کرتا ہے تو پھر سہولت کے دروازے کھول دیتا ہے اگر عذر نکال نکال کر گناہ کئے جائیں جیسے مثلاً کہتے ہیں کہ سودی روپیہ لئے بغیر گزارہ نہیں ، تو پھر عذروں کے ساتھ خدا تعالیٰ کی کتاب کے کسی حکم پر عمل نہ ہو۔سب راست بازوں کا تجربہ یہی ہے کہ جب تک خدا تعالیٰ رحمت کا دروازہ نہ کھولے کچھ بھی نہیں بنتا افسوس یہ ہے کہ جیسا بھروسہ انسان مخلوق کے دروازوں پر رکھتا ہے اگر اپنے خالق کے دروازہ پر رکھے تو کبھی محتاج نہ ہو مگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی قدر نہیں کرتے۔" (الحکم قادیان ۲۴ / مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۵) پھر ایک موقع پر ایک شخص نے کہا کیا کریں مجبوری سے سودی قرضہ لیا جاتا ہے اس پر آپ نے " جو خدا تعالیٰ پر توکل کرتا ہے۔خدا اس کا کوئی سبب پردہ غیب سے بنادیتا ہے۔افسوس کہ لوگ اس راز کو نہیں سمجھتے کہ متقی کیلئے خدا تعالیٰ کبھی ایسا موقع نہیں بنا تا کہ وہ سودی قرضہ لینے پر مجبور ہو یا درکھو جیسے اور گناہ ہیں مثلاً زنا، چوری ایسے ہی یہ سود دینا