مالی قربانی ایک تعارف — Page 101
مالی قربانی 101 چنده جلسه سالانه ایک تعارف حصہ آمد یا چندہ عام ادا کرنے والے احباب اپنی سالانہ آمد کا ۱/۱۲۰ (ایک سو بیسواں حصہ یا ایک ماہ کی آمد کا دسواں حصہ سال میں ایک دفعہ چندہ جلسہ سالانہ کی صورت میں ادا کرتے ہیں۔اگر کسی دوست نے چندہ عام میں رعایت شرح حاصل کی ہو تو چندہ جلسہ سالانہ میں بھی اسی تناسب سے رعایت متصور ہوگی اس کیلئے الگ درخواست دینے کی ضرورت نہ ہوگی۔ایسے موصی اور موصیات جن کی اپنی کوئی ذاتی آمدنی نہیں ، صرف جیب خرچ پر حصہ آمد ادا کر رہے ہوتے ہیں اور چندہ جلسہ سالانہ ادا نہیں کر رہے ہوتے۔اگر چہ چندہ جلسہ سالانہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے ان کی وصیت متاثر تو نہیں ہوتی لیکن ان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ جہاں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے نظام وصیت میں شامل ہونے کی توفیق پائی، چندہ جلسہ سالانہ کا مطالبہ بھی چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہی ہے، لہذا وصیت کے نظام میں شامل احباب کیلئے بہتر ہے کہ چندہ جلسہ سالانہ بھی اسی ذوق شوق سے ادا کریں جس ذوق شوق سے چندہ وصیت ادا کرتے ہیں۔اس چندے کے متعلق حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے مجلس مشاورت ۱۹۳۸ ء میں فرمایا:۔حصہ " جہاں تک مجھے علم ہے چندہ جلسہ سالانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ سے ہی شروع ہے۔بعض دوستوں نے غلطی سے یہ سمجھا ہے کہ یہ چندہ عام کا ہی ایک حص ہے۔جسے الگ کر دیا گیا ہے۔حالانکہ مجھے ایک مثال بھی ایسی یاد نہیں جب چندہ جلسہ سالانہ کیلئے الگ تحریک نہ کی گئی ہو۔تو یہ چندہ نہایت ہی پرانے چندوں میں سے ہے۔پس جہاں میں سب کمیٹی کی یہ تجویز منظور کرتا ہوں کہ آئندہ چندہ جلسہ سالانہ لازمی ہوگا وہاں بجائے پندرہ فیصدی کے میں دس فیصدی مقرر کرتا ہوں مگر دس فیصدی چندہ کا یہ مطلب نہیں کہ جو پندرہ فیصدی دے سکتا ہے وہ بھی نہ دے جو شخص پندرہ فیصدی چندہ دیتا ہے اس کا خدا کے پاس اجر ہے اور ہم اس کے اجر کے راستہ میں روک نہیں بن سکتے۔پس اس شرح میں اگر کوئی شخص خوشی سے زیادتی کرنا چاہے تو وہ ہر وقت کرسکتا ہے۔لیکن وہ لوگ جو دس فیصدی چندہ نہیں