مالی قربانی ایک تعارف

by Other Authors

Page 36 of 201

مالی قربانی ایک تعارف — Page 36

مالی قربانی 36 شخص جو باقاعدگی سے تھوڑا دینا شروع کرتا ہے لازماً بڑھاتا ہے۔اس کا دل بھی کھلتا ہے اس کی توفیق بھی بڑھتی چلی جاتی ہے اور جو پیسہ وہ آنوں میں، آنے روپوؤں میں یعنی جو بھی دنیا میں مختلف currencies ہیں ایک درجے کا جو سکہ ہے دوسرے درجوں میں تبدیل ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ ہزاروں دینے والے لاکھوں میں چلے جاتے ہیں لاکھوں والے کروڑوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔اور جماعت کی تاریخ من حیث الجماعت یہی منظر دکھا رہی ہے۔وہ جو پیسے دینے والی جماعت تھی لیکن اخلاص سے، باقاعدگی سے دیئے اللہ نے اسے ہزاروں دینے والی بنا دیا۔پھر لاکھوں دینے والی بنادیا تو لاکھوں کے بطن سے وہ پیدا ہوئے جنہوں نے کروڑوں دیئے اور اب تو اربوں کا وقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔" (خطبہ جمعہ ا ار نومبر ۱۹۹۴ء) فرمودات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی خدا تعالیٰ کے ساتھ معاملہ صاف رکھیں اگر شروع میں بجٹ جو بھی بنا اس کے بعد اگر حالات بہتر ہوئے تو بجائے اس کے کہ پھر بجٹ کے مطابق ادا ئیگی ہو جس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل نازل ہوئے ان کے مطابق اپنی ادائیگی کرنے کی طرف توجہ کریں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ سے ہمارےسودے صاف ہوں گے تو وہ سمیع و علیم خدا ہے۔ہمارے حالات سے باخبر ہے ہماری نیک نیتی کو دیکھتے ہوئے ہماری دعاؤں کو زیادہ سنے گا۔اور سب سے زیادہ اگر ہمیں کسی چیز کی ضرورت ہے اس وقت اس زمانہ میں اور اپنی ذات کے لئے بھی تو وہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہے۔اور اس کے حضور عاجزانہ دعائیں ہیں جن کو وہ قبولیت کا شرف پائیں گے تو میری یہ درخواست ہے کہ دعاؤں کی قبولیت کیلئے بھی یہ بہت ایک تعارف