مالی قربانی ایک تعارف — Page 35
مالی قربانی 35 قربانی کی اصل روح ہے ، اس کے پیش نظر لازماً مجھے بار بار جماعت کو یاددہانی کروانی چاہیئے کہ خدا کی راہ میں تم فقیر ہو۔اگر تم مالی قربانی نہیں کرو گے تو نقصان اٹھاؤ گے اور قرآن کریم نے ہمیں یہ نکتہ سکھایا ہے کہ جو خدا کی راہ میں مالی قربانی کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے اموال میں بے انتہا برکتیں بخشا ایک پہلو جو قرآن کریم ہمارے سامنے رکھتا ہے کہ خدا کی راہ میں ادا کرنے سے یا قربانیاں کرنے سے تم امیر ہو گے۔کیونکہ تمہارا غنی سے تعلق جڑے گا اور اگر اس تعلق کو کاٹو گے تو تم فقراء ہو جاؤ گے۔پس مذہبی قو میں اگر مالی قربانی کو بھلا دیں تو پھر ان پر غربت کی مار پڑا کرتی ہے۔اگر وہ مالی قربانی میں پیش پیش ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کو بے انتہا نعمتیں عطا کرتا ہے۔یہ وہ راز ہے جسے ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیئے اور قومی اقتصادی تعمیر کے سلسلے میں بھی اسے استعمال کرنا چاہیئے " ( خطبه جمعه ۲۸ ستمبر ۱۹۹۰ء) با قاعدگی کا اصول حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہے " اب یہ جو با قاعدگی کا اصول حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ بہت ہی اہمیت رکھتا ہے اول تو یہ کہ روز مرہ کی زندگی میں جو کم کھانے والے ہیں وہ بھی باقاعدہ تو کھاتے ہیں یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ دو مہینے ناغہ کرلیا اور پھر شروع کر دیا کھانا، روز مرہ کے دستور کے لحاظ سے کچھ باقاعدگی لازم ہے۔اور جس کو توفیق ہے وہ ضرور اختیار کرتا ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام بڑی سنجیدگی سے اس مسئلے کو انسانی روحانی بقاء کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔اور پیسہ بھی قبول فرما ر ہے ہیں خدا کی راہ میں ،مگر تاکید کے ساتھ کہ دیکھو ہمیں فرق نہیں پڑے گا تمہیں فرق پڑے گا۔لیکن مقرر کرو تو پوری وفا کے ساتھ عہد پر قائم رہتے ہوئے اسے ہمیشہ اسی طرح دیتے چلے جاؤ۔اور یہ جو قانون ہے کہ حسب توفیق دو اور پھر با قاعدہ دو یہ ایسا قانون جو نشو ونما پاتا ہے۔اس کے اندر ہی خدا تعالیٰ نے نشو ونما کی گل رکھ دی ہے۔اور ایسا ایک تعارف