مالی قربانی ایک تعارف — Page 169
مالی قربانی 169 ایک تعارف جواب:۔جو جائیداد قرض پر لی گئی ہو اس پر وصیت کی ادائیگی کے متعلق حضرت خلیفہ امسیح الربع " کا ارشاد :- اس ضمن میں اصولی طرز عمل یہ ہے کہ جو شخص زندگی میں اپنی جائیداد کا حصہ وصیت ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے بعض شرائط کے ساتھ منظور کر لیا جاتا ہے۔اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں نے اپنی جائیداد پر اتنا قرض دینا ہے، یہ منہا کر لیا جائے اور بقیہ پر حصہ وصیت کی ادا ئیگی ہو جائے تو ایسے معاملے میں بعض پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ان پیچیدگیوں سے بچنے کیلئے عام طور پر یہی بہتر ہے کہ جس نے قرض پر جائیداد بنائی ہو اس جائیداد کا حصہ وصیت اس کی زندگی میں اسی صورت میں قبول کیا جائے کہ وہ قرض کی ذمہ داری اپنی ذات پر رکھے اور پوری جائیداد کی قیمت پر حصہ وصیت ادا کر کے فارغ ہو جائے۔اگر وہ قرض کو منہا کر کے حصہ وصیت ادا کرنا چاہے تو منظوری کی صورت میں اس کا مطلب صرف یہ ہوگا کہ یہ حصہ وصیت صرف اس جائیداد کا ہوا ہے جس پر کسی قسم کا قرض نہیں تھا۔اور جس جائیداد پر قرض ہے اس کا معاملہ وفات کے دن تک ملتوی سمجھا جائے گا۔یعنی اگر اس وقت تک قرض ادا کر دیا گیا ہو تو جائیداد کے اس حصہ کی وصیت کا مطالبہ وفات کے بعد کیا جائے گا۔کیونکہ اس نے اپنی زندگی میں قرض کے عذر پر اس حصہ کی وصیت ادا نہ کی تھی۔اگر کچھ قرض باقی ہو تو پھر اس جائیداد کا تخمینہ کر کے اس میں سے قرض منہا کر لیا جائے اور بقیہ قیمت جائیداد پر وصیت واجب الادا ہوگی۔یہ اصولی طرز عمل ہے اس کا سب پر اطلاق ہوگا۔خط محرره 1990-01-28) سوال: Mortgage پر لی گئی جائیداد کی تشخیص کا کیا طریقہ کار ہے؟ جواب: ہر ایسی جائیداد جو Mortgage پر خریدی گئی ہو اس کے حصہ جائیداد کی ادائیگی کے دو ہی طریق ہیں: (1) اگر موصی اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا حصہ جائیداد ادا کرنا چاہے تو ایسی جائیداد کی با قاعدہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق تشخیص ہوتی ہے اور Mortgage کی رقم منہا نہیں کی جاتی۔کیونکہ قرضہ کی زندگی میں کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔(۲)۔اگر کوئی موصی اپنی زندگی میں اپنی کسی جائیداد کا حصہ ادا نہیں کرتا تو وفات کی صورت میں