ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 74 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 74

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۴ جلد نهم یہ مذہب ہر گز نہیں کہ وہ ایک خواب تھا یا صرف روح گئی بلکہ ہم تو کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عین بیداری میں معراج ہوا اور ایک لطیف جسم بھی ساتھ تھا۔ مگر یہ باطنی امور ہیں۔ خشک ملاں اسے کیا سمجھیں ۔ پھر مکالمہ الہی کا دعویٰ ہے۔ یہ بھی کوئی نئی بات نہیں سنت اللہ سے بھی یہ بات ثابت ہے اور انسان کے دل کی تڑپ بھی یہی چاہتی ہے۔ فتوح الغیب میں بھی ایسا ہی لکھا ہے اور اشاعت السنۃ میں بھی چھپا تھا۔ وَلَهُمْ مُكَالِمَات مجدد صاحب نے بھی یہی لکھا ہے اور ولی و نبی میں قلت و کثرت مکالمات کا فرق بتایا ہے یہ نبی کا لفظ صرف انہی معنوں میں ہے اور اپنی اپنی اصطلاح ہے ورنہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ عوام الناس کو بدظن کرنے کے لیے ہم پر طرح طرح کے الزام لگائے جاتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں ملائکہ کے منکر ہیں کبھی کچھ ۔ حالانکہ ہم ملائک پر، خدا کی کتابوں پر، احادیث رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ، بهشت و دوزخ ، عذاب قبر، تقدیر ، حشر اجساد سب پر صدق دل سے ایمان لاتے ہیں۔ ہم ایسے امور کی تفاصیل خدا کے حوالے کرتے ہیں کیونکہ محتاط مذہب یہی ہے کہ انسان مجمل پر ایمان لاوے اور تفاصیل کو بحوالہ، خدا کر دے۔ باقی رہا شریعت کا عملی حصہ، سو ہمارے نزدیک سب سے اول قرآن مجید ہے۔ پھر احادیث صحیحہ جن کی سنت تائید کرتی ہے۔ اگر کوئی مسئلہ ان دونو میں نہ ملے تو پھر میرا مذہب تو یہی ہے کہ حنفی مذہب پر عمل کیا جاوے کیونکہ ان کی کثرت اس بات کی دلیل ہے کہ خدا کی مرضی یہی ہے مگر ہم کثرت کو قرآن مجید و احادیث کے مقابلہ میں پہنچ سمجھتے ہیں۔ ان کے بعض مسائل ایسے ہیں کہ قیاس صحیح کے بھی خلاف ہیں ۔ ایسی حالت : ۔ ایسی حالت میں احمدی علماء کا اجتہاد اولی بالعمل ہے دیکھو مفقود الخبر کے لیے نوے برس یا کم و بیش میعاد رکھی ہے۔ یہ ہی نہیں کہہ دیا کہ وہ نکاح نہ کرے۔ یہ واہیات ہے۔ حکیم الامت نے عرض کیا کہ حضور شاہ صاحب علیہ الرحمۃ نے لکھا ہے کہ جس ملک میں جس مذہب کی کتابیں بسہولت میسر آئیں اس پر عمل ہونا چاہیے۔ فرمایا۔ بیشک ہماری طرف حنفی مذہب کی کتابیں ہی ہیں۔ اعمال کی اصل روح تو معرفت الہی واخلاص