ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 67 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 67

میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تم کو ان سے بہت دکھ اٹھانا پڑے گا۔کیونکہ جو لوگ دائرہ تہذیب سے باہر ہوجاتے ہیں ان کی زبان ایسی چلتی ہے جیسے کوئی پل ٹوٹ جاوے تو ایک سیلاب پھوٹ نکلتا ہے۔پس دیندار کو چاہیے کہ اپنی زبان کو سنبھال کر رکھے۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب انسان کسی کا مقابلہ کرتا ہے تو اسے کچھ نہ کچھ کہنا ہی پڑتا ہے جیسے مقدمات میں ہوتا ہے۔اس لیے آرام اسی میں ہے کہ تم ایسے لوگوں کا مقابلہ ہی نہ کرو۔سدِّ باب کا طریق رکھو اور کسی سے جھگڑا مت کرو، زبان بند رکھو، گالیاں دینے والے کے پاس سے چپکے سے گذر جاؤ گویا سنا ہی نہیں اور ان لوگوں کی راہ اختیار کرو جن کے لیے قرآن شریف نے فرمایا ہے وَاِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا(الفرقان:۷۳) اگر یہ باتیں اختیار کر لو گے تو یقیناً یقیناً اللہ تعالیٰ کے سچے مخلص بن جاؤ گے۔اللہ تعالیٰ کو کسی رپورٹ کی حاجت نہیں۔وہ خود دیکھتا ہے اور سنتا ہے اگر تم تین ہو تو چوتھا خدا ہوتا ہے۔اس لیے خدا کو اپنا نمونہ دکھاؤ۔اگر تمہارے نفسانی جوش اور بد زبانیاں ایسی ہی ہیں جیسے تمہارے دشمنوں کی ہیں پھر تم ہی بتاؤ کہ تم میں اور تمہارے غیروں میں کیا فرق اور امتیاز ہوا؟ تمہیں تو چاہیے کہ ایسا نمونہ دکھاؤ کہ جومخالف خود شرمندہ ہو جاوے۔بڑا ہی عقلمند اور حکیم وہ ہے جو نیکی سے دشمن کو شرمندہ کرتا ہے۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ نرمی اوررفق سے معاملہ کرو۔اپنی ساری مصیبتیں اور بَلائیں خدا تعالیٰ پر چھوڑ دو۔یقیناً سمجھو اگر کوئی شخص ایسا ہے کہ ہر شخص کی شرارت پر صبر کرتا ہے اور خدا پر اسے چھوڑتا ہے تو خدا اسے ضائع نہیں کرے گا۔اگرچہ دنیا میں ایسے آدمی موجود ہیں جو ہنسی کریں گے اور ان باتوں کو سن کر ٹھٹھا کریں گے مگر تم اس کی پروا نہ کرو۔خدا تعالیٰ خود اس کے لیے موجود ہے۔وہ خدا پرانا نہیں ہوگیا جیسے انسان بڈھا ہو کر پیر فرتوت ہوجاتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ وہی ہے جو موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کے وقت تھا اور وہی خدا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تھا۔اس کی وہی طاقتیں اب بھی ہیں جو پہلے تھیں۔لیکن جو کچھ میں کہتا ہوں تم اس پر عمل نہ کرو تو میری جماعت میں نہ رہے۔