ملفوظات (جلد 9) — Page 59
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۹ جلد نهم کچھ پہن لیے اور مونچھیں بڑھالیں اور السلام علیکم کی جگہ وا بگو روجی کی فتح رہ گئی ۔ یہ تو وہ حالت تھی جو سکھوں کے عہد میں ہوئی۔ اب جب امن ہوا تو فسق و فجور میں ترقی کی اور ادھر عیسائیوں نے ہر قسم کے لالچ دے کر ان کو عیسائی بنانا چاہا اور ان کا وار خالی نہیں گیا۔ ہر گر جا میں ہر شریف قوم کی لڑکیاں اور لڑ کے پاؤ گے جو مرتد ہو کر ان میں مل گئے ہیں۔ وہ کیسا درد ناک واقعہ ہوتا ہے جب کسی شریف خاندان کی لڑکی کو پھسلا کر لے جاتے ہیں اور پھر وہ بے پردہ ہو کر پھرتی ہے اور ہر قسم کے معاصی سے حصہ لیتی ہے۔ ان حالات کو دیکھ کر ایک معمولی عقل کا آدمی بھی کہہ اٹھے گا کہ یہ زمانہ بالطبع تقاضا کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مدد آوے۔ ان لوگوں کا تو ہم منہ بند نہیں کر سکتے جو کہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کا کچھ نہیں بگڑا ۔ ایسے لوگوں کے نزدیک تو اگر سب کے سب دہر یہ ہو جائیں ۔ تب بھی کچھ نہیں بگڑے گا۔ لیکن سچی بات یہی ہے کہ اس وقت اسلام خدا کی مدد کا سخت محتاج ہے۔ خدا تعالیٰ نے مجھے اس صدی کا مجد دکر کے بھیجا ہے اور یہ کیسی خوشی کی بات ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایسے وقت میں اسلام کو بے مدد نہیں چھوڑا۔ اس نے اپنے قانون کے موافق مجھے بھیجا ہے تا میں اسے زندہ کروں مگر تعجب اور افسوس کا مقام ہے کہ باوجود یکہ زمانہ کی حالت مجدّد کی داعی تھی اور مولویوں سے پوچھو وہ اقرار کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ہر صدی پر ایک مجدد آئے گا ۔ لیکن جب ان سے پوچھا جاوے کہ اب بتاؤ اس صدی کا مجد د کون ہے؟ تو جواب نہیں دیتے ۔ حالانکہ چوبیس سال صدی میں سے گزر گئے اور جب میں پیش کرتا ہوں کہ خدا نے مجھے اس صدی کا مجد د کر کے بھیجا ہے تو انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دجال آیا۔ اور ابھی کہتے ہیں کہ ایک نہیں بلکہ تیس دجال آنے والے ہیں ۔ افسوس! با وجود اس سرگردانی کے کیا تمہارے حصہ میں دجال ہی آیا ہے۔ کیا کہیں یہ بھی لکھا ہے لے بدر سے ۔ کیا سبب ہے کہ اس صدی کے سر پر آکر وہ حدیث بھی جھوٹی ہو گئی جو تیرہ سو سال تک ٹھیک ثابت ( بدر جلد ۶ نمبر ۳ مورخہ ۷ ۱ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحه (۱۳) ہوتی چلی آتی تھی ۔“ 66