ملفوظات (جلد 9) — Page 57
کر خوش ہوگئے۔نہیں یہ ایک خزانہ ہے اس کو مت چھوڑو۔اس کو نکال لو۔یہ تمہارے اپنے ہی گھر میں ہے اور تھوڑی سی محنت اور سعی سے اس کو پا سکتے ہو۔ایک شخص کے پاس کنواں ہو اور وہ اس کے گھر ہی میں ہو۔لیکن وہ کیسا بد نصیب ہے اگر اسے اس کا علم نہ ہو۔اسی طرح اس مسلمان سے کون زیادہ بد نصیب ہے جس کو خدا تعالیٰ وعدہ دیتا ہے کہ میں اپنے کلام سے مشرف کروں گا مگر وہ اس کی طرف توجہ نہ کرے۔یہ خدا تعالیٰ کا بڑا فضل ہے اور اسلام سے خاص ہے۔کسی آریہ سے پوچھو کہ تم وعدہ ہی دکھاؤ وہ یہ بھی نہیں دکھا سکتے۔ماتم زدہ اور مُردہ وہ مذہب ہے جس کے الہام پر مہر لگ گئی اور ویران اور اجڑا ہوا وہ باغ ہے جس پر خزاں کا قبضہ ہو چکا لیکن ربیع کا اثر اس پر نہیں ہو سکتا۔کیسے افسوس اور تعجب کا مقام ہے کہ انسانی فطرت پر تو مہر نہ لگی اس میں تو معرفت حقیقی کی وہی بھوک پیاس موجود ہے لیکن الہام پر مہر لگا دی گئی جو معرفت الٰہی کا سر چشمہ تھا افسوس! بھوک میں غذا پھینک دی گئی اور پیاس کی حالت میں پانی لے لیا گیا۔عیسائیت اور اسلام ایسا ہی عیسائی مذہب کا حال ہے۔باوجود ہزاروں ضعف اور غربت کے ایک عاجز انسان کو خدا بنانا اور بات ہے یہ تو نری لاف زنی ہے۔زبان سے کہہ دیا لیکن ہم کہتے ہیں کہ اس کی خدائی مان کر جو فضل تم پر ہوا اور جو معرفت بڑھی ہے اسے بھی تو پیش کرو۔یہ کیسا میزبان ہے کہ دعوت کر کے بُلایا ہے اور بھوک پیاس بھی لگی ہوئی ہے۔ہاتھ دھلا دیتے ہیں۔مگر نہ روٹی دیتا ہے اور نہ پانی۔اس کی وجہ کیا ہے؟ وجہ یہی ہے کہ وہ مُردہ مذہب ہیں۔ان میں زندگی کے آثار اور زندگی کی حس و حرکت نہیں۔وہ خشک ٹہنیاں ہیں۔ان میں اب پھل پھول نہیں نکل سکتے۔یہ صرف اسلام ہی ہے جو زندہ مذہب ہے۔یہی ہے جس کا ربیع ہمیشہ آتا ہے جبکہ اس کے درخت سر سبز ہوتے ہیں اور شیریں اور لذیذ پھل دیتے ہیں اس کے سوا اور کوئی مذہب یہ خوبی نہیں رکھتا۔اگر اس میں سے یہ خوبی نکال دی جاوے تویہ بھی مُردہ ہوجاتا۔مگر نہیں وہ زندہ مذہب ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہر زمانہ میںاس کی زندگی کا ثبوت دیا ہے چنانچہ اس زمانہ میں بھی