ملفوظات (جلد 9) — Page 55
تقویٰ سے حصہ نہیں رکھتا اور پھر کہتا ہے کہ علوم دین اور حقائق اس کی زبان پرجاری ہوتے ہیں وہ جھوٹ بولتا ہے۔ہرگز ہرگز ایسے دین کے حقائق اور معارف سے حصہ نہیں ملتا بلکہ دین کے لطائف اور نکات کے لیے متقی ہونا شرط ہے جیسا کہ یہ فارسی شعر ہے۔؎ عروس حضرت قرآن نقاب آنگہ بردارد کہ دار الملک معنی را کند خالی ز ہر غوغا جب تک یہ بات پیدا نہ ہو اور دار الملک معنے خالی نہ ہو، وہ غوغا کیاہے؟ یہی فسق و فجور دنیا پسندی ہے۔ہاں یہ جدا اَمر ہے کہ چور کی طرح کچھ کہلائے تو کہہ دے۔۱ لیکن جو روح القدس سے بولتےہیں وہ بجز تقویٰ کے نہیں بولتے یہ خوب یاد رکھو کہ تقویٰ تمام دینی علوم کی کنجی ہے۔انسان تقویٰ کے سوا ان کو نہیں سیکھ سکتا۔جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا الٓمّٓ ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠(البقرۃ:۲،۳) یہ کتاب تقویٰ کرنے والوں کو ہدایت کرتی ہے اور وہ کون ہیں؟ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ (البقرۃ:۴) جو غیب پرایمان لاتے ہیں یعنی ابھی وہ خدا نظر نہیں آتا۔اور پھر نماز کو کھڑی کرتے ہیں یعنی نماز میں ابھی پورا سرور اور ذوق پیدا نہیں ہوتا۔تاہم بے لُطفی اور بے ذوقی اور وساوس میں ہی نماز قائم کر تےہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ خرچ کرتے ہیں اور جو کچھ تجھ پر یا تجھ سے پہلے نازل کیا گیا ہے اس پر ایمان لاتے ہیں۔یہ متقی کے ابتدائی مدارج اور صفات ہیں۔جیسا کہ میں نے ایک مرتبہ بیان کیا تھا بظاہر یہاں اعتراض ہوتا ہے کہ جب وہ خدا پر ایمان لاتےہیں۔نماز پڑھتے ہیں۔خرچ کرتے ہیں اور ایسا ہی خدا کی کتابوں پر ایمان لاتے ہیں پھر اس کے سوا نئی ہدایت کیا ہوگی؟ یہ تو گویا تحصیل حاصل ہوئی۔يُنْفِقُوْنَ میں دونوں باتیں داخل ہیں۔یعنی دوسروں کو روٹی یا کپڑا یا مال دیتا ہے اور یا قویٰ بدر سے۔’’اللہ تعالیٰ نے اس بات کو حرام کیا ہے کہ فسق و فجور اور شرارت کے ساتھ کسی کو دینی علوم بھی حاصل ہوجائیں۔ہاں چور کی طرح کوئی دوسروں کی بات لے کر بیان کر دے تو وہ مالِ مسروقہ ہے لیکن وہ کلام جو روح القدس کی تائید کے ساتھ ہوتا ہے وہ تقویٰ کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔تمام دینی علوم کی کنجی تقویٰ ہی ہے۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۳ مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۲)