ملفوظات (جلد 9) — Page 54
ملفوظات حضرت مسیح موعود ولد جلد نهم ثمرات اور برکات خدا تعالیٰ پر کامل یقین اور توکل پیدا ہونے لگتے ہیں اور معجزات اور نشانات مشاہدہ کرائے جاتے ہیں۔ اب چونکه زمین و آسمان پر مدت ہائے دراز گذر گئی ہیں اس لیے نرا ان کا وجود یقین کے لیے کافی نہیں۔ اگر یہ کافی ہوتے تو لوگ دہر یہ کیوں بنتے ؟ میں یقیناً کہتا ہوں کہ دوسرے لوگ دہریوں کو خدا تعالیٰ کی ہستی پر قائل نہیں کر سکتے۔ لیکن ہمارے سامنے لاؤ۔ یہ تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ مان جاویں مگر یہ ہم دعوی سے کہتے ہیں کہ وہ لاجواب ہو جائیں گے۔ وہ طریق جس سے ہم دہریوں اور دوسروں پر حجت قائم کرتے ہیں وہ کیا ہے؟ خدا تعالیٰ کے اقتداری نشان اور اقتداری پیشگوئیاں ۔ اسلام پر یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اور رحم ہے کہ ایک سچا مسلمان یہاں تک ترقی کر سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کو مکالمہ مخاطبہ نصیب ہو جاتا ہے مگر یہ سب کچھ تقویٰ سے نصیب ہوتا ہے۔ تقوی تمام دینی علوم کی کنجی ہے جہاں قرآن شریف میں تقوی کا ذکر کیا ہے وہاں بتایا ہے ہے کہ ہر ایک علم (اس سے اخروی علم مراد ہے زمینی ہے ہے کہ ہر ایک علم (اس سے ان ۔ اور دنیوی علم مراد نہیں ) کی جڑ تقویٰ ہی ہے اور تمام نیکیوں کی جڑ یہی تقویٰ ہے۔ متقی کا خدا تعالیٰ خود متکفل ہوتا ہے اور اس کے لیے عجیب در عجیب نشان ظاہر کرتا ہے۔ قرآن شریف نے شروع میں ہی فرما يا هُدًى لِلْمُتَّقِينَ ( البقرۃ:۳) پس قرآن شریف کے سمجھنے اور اس کے موافق ہدایت پانے کے لیے تقویٰ ضروری اصل ہے ۔ ایسا ہی دوسری جگہ فرمایا لا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة : ٨٠) دوسرے علوم میں یہ شرط نہیں ۔ ریاضی ، ہندسہ و ہیئت وغیرہ میں اس امر کی شرط نہیں کہ سیکھنے والا ضرور متقی اور پر ہیز گار ہو۔ بلکہ خواہ کیسا ہی فاسق و فاجر ہی ہو وہ بھی سیکھ سکتا ہے مگر علم دین میں خشک منطقی اور فلسفی ترقی نہیں کر سکتا اور اس پر وہ حقائق اور معارف نہیں کھل سکتے ۔ جس کا دل خراب ہے اور لے بدر سے ۔ ”خدا تعالیٰ کی شناخت کے واسطے یہ ایک بڑا طریق ہے کہ نشانات کا مشاہدہ کرایا جاوے۔ جب ایک سلسلہ نشانات اور کرامات کو مدت دراز گذر جاتی ہے تو لوگ دہر یہ مزاج ہو جاتے ہیں اور بیہودہ باتیں بناتے ہیں ۔“ ( بدر جلد ۶ نمبر ۳ مورخہ ۷ ارجنوری ۱۹۰۷ صفحه ۱۲)