ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 37 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 37

۲۷؍دسمبر ۱۹۰۶ء تقریرحضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمودہ بعد نماز ظہر و عصر مسجد اقصٰی قادیان میں۱ نے جو کچھ کل بیان کیا تھا اس میں سے کچھ حصہ باقی رہ گیا تھا اس لیے میں نے مناسب اور ضروری سمجھا کہ اس حصہ کو بیان کر دوں تاکہ وہ بیان مکمل ہو جاوے۔مذہبی آزادی پر اظہار تشکر سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سلسلہ جو نئے طور سے قائم کیا ہے۲ اسے قائم ہوتے ہی مصائب اور مشکلات پیدا ہوگئے اندرونی اور بیرونی طور پر طرح طرح کے دکھ اس کو دیئے گئے۳ مگر بیرونی طور پر جو دکھ دیا گیا ہے اس پر افسوس نہیں اس لیے کہ وہ دکھ صرف زبان کا دکھ ہے اور اس دکھ کے مقابلہ میں یہ کچھ چیز نہیں جو ابتدائے اسلام اور غربت اسلام کے وقت ان لوگوں کو اٹھانا پڑا جو اسلام میں داخل ہوئے۔وہ دکھ اس قسم کے تھے کہ ان کو بیان کرنے سے بھی دل کانپ جاتا ہے کہ وہ کیسے سنگدل انسان تھے کہ انہوں نے صرف مسلمان ہونے پر ان کو طرح طرح کی مشکلات اور مصائب میں ڈالا اور بہتوں کو ۱ بدر سے۔’’ میںنے کل جو کچھ بیان کیا تھا اس کی تکمیل بہ سبب بیماری کے نہ ہو سکی۔‘‘ (بدر جلد ۶نمبر ۳ مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۸) ۲ بدر سے۔’’اللہ تعالیٰ نے یہ سلسلہ اس واسطے قائم کیا ہے کہ لوگ نئے طور پر اس کی ہستی پر ایمان اور یقین حاصل کریں۔‘‘ (بدر جلد ۶نمبر ۳ مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۸) ۳ بدر سے۔’’یہ ایذا رسانی صرف بیرونی لوگوں کی طرف سے نہیں ہے جو غیر مذاہب کے لوگ ہیں بلکہ اندرونی لوگوں کی طرف سے بھی جو کہ مسلمان کہلاتے ہیں ہم دکھ دیئے جاتے ہیں اور وہ لوگ ہماری مخالفت میں کوئی بات چھوڑ نہیں سکتے۔‘‘ (بدر جلد ۶نمبر ۳ مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۸)