ملفوظات (جلد 9) — Page 31
کرو اور دوسری کو بڑھاؤ۔ہمیشہ روزہ دارکو یہ مد نظر رکھنا چاہیے کہ اس سے اتنا ہی مطلب نہیں ہے کہ بھوکا رہے بلکہ اسے چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہے تاکہ تبتّل اور انقطاع حاصل ہو۔پس روزے سے یہی مطلب ہے کہ انسان ایک روٹی کو چھوڑ کر جو صرف جسم کی پرورش کرتی ہے دوسری روٹی کو حاصل کرے جو روح کے لیے تسلی اور سیری کا باعث ہے اور جو لوگ محض خدا کے لیے روزے رکھتےہیں اور نرے رسم کے طور پر نہیں رکھتے انہیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح اور تہلیل میں لگے رہیں جس سے دوسری غذا انہیں مل جاوے۔حج ایسا ہی حج بھی ہے۔حج سے صرف اتنا ہی مطلب نہیں کہ ایک شخص گھر سے نکلے اور سمندر چیر کر چلا جاوے اور رسمی طور پر کچھ لفظ منہ سے بول کر ایک رسم ادا کر کے چلا آوے۔اصل بات یہ ہے کہ حج ایک اعلیٰ درجہ کی چیز ہے جو کمال سلوک کا آخری مرحلہ ہے۔سمجھنا چاہیے کہ انسان کا اپنے نفس سے انقطاع کا یہ حق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کی محبت میں کھویا جاوے اور تعشق باللہ اور محبت الٰہی ایسی پیدا ہوجاوے کہ اس کے مقابلہ میں نہ اسے کسی سفر کی تکلیف ہو اور نہ جان و مال کی پروا ہو، نہ عزیز و اقارب سے جدائی کا فکر ہو جیسے عاشق اور محب اپنے محبوب پر جان قربان کرنے کو تیار ہوتا ہے۔اسی طرح یہ بھی کرنے سے دریغ نہ کرے۔اس کا نمونہ حج میں رکھا ہے۔جیسے عاشق اپنے محبوب کے گرد طواف کرتا ہے اسی طرح حج میں بھی طواف رکھا ہے یہ ایک باریک نکتہ ہے۔جیسا بیت اللہ ہے ایک اس سے بھی اوپر ہے۔جب تک اس کا طواف نہ کرو۔یہ طواف مفید نہیں اور ثواب نہیں۔اس کے طواف کرنے والوں کی بھی یہی حالت ہونی چاہیے جو یہاں دیکھتے ہو کہ ایک مختصر سا کپڑا رکھ لیتے ہیں۔اسی طرح اس کا طواف کرنے والوں کو چاہیے کہ دنیا کے کپڑے اتار کر فروتنی اور انکساری اختیار کرے اور عاشقانہ رنگ میں پھر طواف کرے۔طواف عشق الٰہی کی نشانی ہے اور اس کے معنے یہ ہیں کہ گویا مرضاتِ اللہ ہی کے گرد طواف کرنا چاہیے اور کوئی غرض باقی نہیں۔زکوٰۃ اسی طرح پر زکوٰۃ ہے۔بہت سے لوگ زکوٰۃ دے دیتے ہیں۔مگر وہ اتنا بھی نہیں سوچتے اور سمجھتے کہ یہ کس کی زکوٰۃ ہے۔اگر کتّے کو ذبح کر دیا جاوے یا سؤر کو ذبح کر ڈالو تو وہ