ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 337 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 337

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۷ جلد نهم شادی کو دف کے ساتھ شہرت کرنا جائز رکھا گیا ہے لیکن اس میں جب ناچ وغیرہ شامل ہو گیا تو وہ منع ہو گیا ۔ اگر اسی طرح پر کیا جائے جس طرح نبی کریم نے فرمایا تو کوئی حرام نہیں ۔ خدا تعالیٰ کے فیصلوں پر انشراح برادرم المبار احمد کی وفات پرفرمایا کہ خدا تعالیٰ اتنی مدت سے ہم پر رحم کرتا آیا ہے۔ ہر طرح سے ہماری خواہش کے مطابق کام کرتا آیا ہے اور اس نے اٹھارہ برس کے عرصہ میں ہم کو طرح طرح کی خوشیاں پہنچائیں اور انعام واکرام کئے ۔ گویا اپنی رضا پر ہماری رضا کو مقدم کر لیا۔ پھر اگر ایک دفعہ اس نے اپنی مرضی ہم کو منوانی چاہی تو کون سی بڑی بات ہے۔ اگر ہم باوجود اس کے اس قدر احسانات کے پھر بھی جزع فزع اور واویلا کریں تو ہمارے جیسا احسان فراموش کوئی نہ ہوگا۔ اور پھر اس نے تو پہلے ہی اطلاع دے دی تھی کہ یہ جلد فوت ہو جائے گا جیسا کہ تریاق القلوب میں لکھا ہے۔ دوسرے یہ کہ دوستی تو اسی کو کہتے ہیں کہ کچھ دوست کی باتیں مانی جاویں اور کچھ اس کو منوائی جاویں۔ یہ تو دوستی نہیں کہ اپنی ہی اپنی منواتے جانا۔ اور جب دوست کی بات ماننے کا وقت آئے تو بُرا منانا۔ پس جبکہ ہم نے خدا تعالیٰ سے تعلق کیا ہے تو چاہیے کہ کچھ اس کی مانیں اور کچھ اس سے منوائیں ۔ ہے بلا تاریخ (القول الطيب ) جنگوں میں کام آنے والے نئے بیلون کا ذکر مغربی اقوام کے بارہ میں پیشگوئیوں کا ظہور تھا اوراس کم کار کرتا کی بعض انگر یز اس ے یہ فقرہ حضرت خلیفہ اسیح خلیفہ المسیح الثانی مرزا محمود احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ کا ہے جو اس وقت تشحیذ الا ذبان کے ایڈیٹر تھے۔ (مرتب) ۲ بدر جلد ۶ نمبر ۴۴ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۸