ملفوظات (جلد 9) — Page 336
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۶ جلد نهم ہے جب ہمارا دل بہت دُکھایا جاتا ہے اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر طرح طرح کے ناجائز حملے کئے جاتے ہیں تو صرف متنبہ کرنے کی خاطر انہیں کی مسلّمہ کتابوں سے الزامی جواب دیئے جاتے ہیں۔ ان لوگوں کو چاہیے کہ ہماری کوئی بات ایسی نکالیں جو حضرت عیسی کے متعلق ہم نے بطور الزامی جواب کے لکھی ہو اور وہ انجیل میں موجود نہ ہو۔ آخر یہ تو ہم سے نہیں ہو سکتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین سن کر چپ رہیں اور اس قسم کے جواب تو خود قرآن مجید میں پائے جاتے ہیں جیسے لکھا ہے الكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْأُنثى (النجم : ۲۲) اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَ لَهُمُ الْبَنُونَ (الصفت: ۱۵۰) وہ لوگ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا تمہارے بیٹے اور ہماری بیٹیاں؟ غرض الزامی رنگ کے جواب دینا تو طریق مناظرہ ہے۔ ورنہ ہم حضرت عیسیٰ کو خدا تعالیٰ کا رسول اور ایک مقبول اور برگزیدہ انسان سمجھتے ہیں اور جن لوگوں کا دل صاف نہیں ان کا فیصلہ ہم خدا پر چھوڑتے ہیں ۔ اے بلا تاریخ بددعا دینا اچھا نہیں فرمایا کہ ذرا ذراسی بات پر بد دعا دینا اچھا نہیں ہوتا کیونکہ حدیث میں حکم آیا ہے کہ صبر کرو ۔ ( جو لوگ ذرا ذراسی بات پر بد دعا دیتے ہیں اکثر انہیں پشیمان ہونا پڑتا ہے کیونکہ اس وقت تو وہ جوش میں آکر کچھ کا کچھ کہہ دیتے ہیں اور پیچھے جب سوچتے ہیں تو خود ان کا نفس ان کو ملامت کرتا ہے کہ اس قدر خفیف معاملہ پر اس قدر خفگی اور ناراضگی دکھائی جو اخلاق کے سراسر برخلاف ہے۔ ) فرمایا کہ جو چیز بری ہے وہ حرام ہے اور جو چیز پاک ہے وہ حلال ۔ خدا تعالیٰ حرام و حلال کسی پاک چیز کوحرام قرارنہیں دیتا بلکہ تمام پاک چیزوں کو لال فرماتا ہے۔ ہاں جب پاک چیزوں ہی میں بری اور گندی چیزیں ملائی جاتی ہیں تو وہ حرام ہو جاتی ہیں ۔ اب الحکم جلد ا انمبر ۴۱ مورخہ ۱۷ نومبر ۱۹۰۷ ء صفحہ ۳، ۴