ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 336 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 336

ہے جب ہمارا دل بہت دُکھایا جاتا ہے اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر طرح طرح کے ناجائز حملے کئے جاتے ہیں تو صرف متنبہ کرنے کی خاطر انہیں کی مسلّمہ کتابوں سے الزامی جواب دیئے جاتے ہیں۔ان لوگوں کو چاہیے کہ ہماری کوئی بات ایسی نکالیں جو حضرت عیسٰیؑ کے متعلق ہم نے بطور الزامی جواب کے لکھی ہو اور وہ انجیل میں موجود نہ ہو۔آخر یہ تو ہم سے نہیں ہو سکتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین سن کر چپ رہیں اور اس قسم کے جواب تو خود قرآن مجید میں پائے جاتے ہیں جیسے لکھا ہے اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى (الـنجم:۲۲) اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَ لَهُمُ الْبَنُوْنَ(الصّٰفّٰت:۱۵۰)وہ لوگ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا تمہارے بیٹے اور ہماری بیٹیاں؟ غرض الزامی رنگ کے جواب دینا تو طریق مناظرہ ہے۔ورنہ ہم حضرت عیسیٰ کو خدا تعالیٰ کا رسول اور ایک مقبول اور برگزیدہ انسان سمجھتے ہیں اور جن لوگوں کا دل صاف نہیں ان کا فیصلہ ہم خدا پر چھوڑتے ہیں۔۱ بلاتاریخ بد دعا دینا اچھا نہیں فرمایا کہ ذرا ذرا سی بات پر بد دعا دینا اچھا نہیں ہوتا کیونکہ حدیث میں حکم آیا ہے کہ صبر کرو۔(جو لوگ ذرا ذرا سی بات پر بد دعا دیتے ہیں اکثر انہیں پشیمان ہونا پڑتا ہے کیونکہ اس وقت تو وہ جوش میں آکر کچھ کا کچھ کہہ دیتے ہیں اور پیچھے جب سوچتے ہیں تو خود ان کا نفس ان کو ملامت کرتا ہے کہ اس قدر خفیف معاملہ پر اس قدر خفگی اور ناراضگی دکھائی جو اخلاق کے سرا سر بر خلاف ہے۔) حرام و حلال فرمایا کہ جو چیز بُری ہے وہ حرام ہے اور جو چیز پاک ہے وہ حلال۔خدا تعالیٰ کسی پاک چیز کو حرام قرار نہیں دیتا بلکہ تمام پاک چیزوں کو حلال فرماتا ہے۔ہاں جب پاک چیزوں ہی میں بُری اور گندی چیزیں ملائی جاتی ہیں تو وہ حرام ہو جاتی ہیں۔اب