ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 332 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 332

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۲ جلد نهم جواب کے سنتے ہی خاموش ہو گئے ۔ ہمیں بتلاؤ کہ جب انہوں نے آسمان پر چڑھتے دیکھ کر ایمان لانے کا وعدہ کیا تھا تو کیوں نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان پر چڑھ کر دکھایا۔ یہ کیوں کہہ دیا کہ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولًا (بنی اسراءیل: ۹۴) ؟؟ سبحان کا لفظ اس واسطے بولا گیا ہے کہ سبحان کے معنے ہیں ہر عیب سے مبر ا لیکن وعدہ کو توڑ نا تو سخت عیب ہے۔ خدا نے وعدہ کیا ہوا تھا کہ اکمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا أَحْيَاء وَ أَمْوَاتًا (المرسلات : ۲۷،۲۶) جس کا یہ مطلب ہے کہ ہم نے زمین کو زندوں اور مردوں کے سمیٹنے کے لیے کافی بنایا ہے اور اس میں ایک کشش ہے جس کی وجہ سے زمین والے کسی اور جگہ زندگی بسر کر ہی نہیں سکتے ۔ اب اگر بشر آسمان پر گیا ہو ا مان لیا جاوے تو نعوذ باللہ ماننا پڑے گا کہ خدا نے اپنا وعدہ توڑ دیا۔ غرض اسی کی تائید کے واسطے سبحان کا لفظ بولا گیا ہے کہ اللہ بے عیب ہے وہ وعدہ خلافی نہیں کیا کرتا اور میں تو ایک بشر ہوں۔ بشر آسمان پر نہیں جاسکتا۔ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی وفات کے بارہ میں حضرت عیسی علیہ السلام کا اقرار اور پر دیکھ کہ فلما توفیتنی میں حضرت عیسی کا صاف طور پر اقرار موجود ہے کہ عیسائیوں کے بگڑنے کی مجھے خبر نہیں ۔ اب ان لوگوں کی یہ عجیب قسم کی مولویت ہے کہ حضرت عیسی تو قیامت کے دن اقرار کریں گے کہ میں دوبارہ زمین پر نہیں گیا اور عیسائیوں کے بگڑنے کا جب ان سے سوال کیا جائے گا تو وہ کانوں پر ہاتھ دھریں گے اور اپنی بے خبری جتلائیں گے۔ لیکن یہ ہیں کہ ان کو دوبارہ اتار رہے ہیں۔ اب انصاف سے بتلاؤ کہ کیا یہ ہماری اپنی بنائی ہوئی باتیں ہیں؟ سوچو تو سہی کہ وہ تو بے چارے بار بار خدا تعالیٰ کے سامنے اقرار کرتے ہیں کہ مجھے خبر نہیں کہ عیسائیوں نے مجھے پوجا ہے یا کسی اور کو ۔ اور اپنے خدا یا خدا کا بیٹا بنائے جانے سے لاعلمی ظاہر کریں گے مگر یہ لوگ کہتے ہیں کہ قیامت سے پہلے دنیا میں نازل ہوں گے۔ کسر صلیب کریں گے لڑائیاں کریں گے اور سب مشرکوں کو قتل کر کے مسلمان کر دیں گے۔ جس سے ماننا پڑتا ہے کہ حضرت عیسی خدا کے سامنے جھوٹ بولیں گے اور باوجود عیسائیوں کے اعتقاد سے خبر رکھنے کے لاعلمی ظاہر کریں گے۔