ملفوظات (جلد 9) — Page 331
اس جواب کے سنتے ہی خاموش ہوگئے۔ہمیں بتلاؤ کہ جب انہوں نے آسمان پر چڑھتے دیکھ کر ایمان لانے کا وعدہ کیا تھا تو کیوں نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان پر چڑھ کر دکھایا۔یہ کیوں کہہ دیا کہ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا(بنی اسـرآءیل:۹۴)؟؟ سبحان کا لفظ اس واسطے بولا گیا ہے کہ سبحان کے معنے ہیں ہر عیب سے مبرّا۔لیکن وعدہ کو توڑنا تو سخت عیب ہے۔خدا نے وعدہ کیا ہوا تھا کہ۔اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًا اَحْيَآءً وَّ اَمْوَاتًا(المرسلات:۲۶،۲۷) جس کا یہ مطلب ہے کہ ہم نے زمین کو زندوں اور مُردوں کے سمیٹنے کے لیے کافی بنایا ہے اور اس میں ایک کشش ہے جس کی وجہ سے زمین والے کسی اور جگہ زندگی بسر کر ہی نہیں سکتے۔اب اگر بشر آسمان پر گیا ہوا مان لیا جاوے تو نعوذ باللہ ماننا پڑے گا کہ خدا نے اپنا وعدہ توڑ دیا۔غرض اسی کی تائید کے واسطے سبحان کا لفظ بولا گیا ہے کہ اللہ بے عیب ہے وہ وعدہ خلافی نہیں کیا کرتا اور میں تو ایک بشر ہوں۔بشر آسمان پر نہیں جا سکتا۔وفات کے بارہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اقرار اور پھر دیکھو کہ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ میں حضرت عیسٰیؑ کا صاف طور پر اقرار موجود ہے کہ عیسائیوں کے بگڑنے کی مجھے خبر نہیں۔اب ان لوگوں کی یہ عجیب قسم کی مولویت ہے کہ حضرت عیسٰیؑ تو قیامت کے دن اقرار کریں گے کہ میں دوبارہ زمین پر نہیں گیا اور عیسائیوں کے بگڑنے کا جب ان سے سوال کیا جائے گا تو وہ کانوں پر ہاتھ دھریں گے اور اپنی بے خبری جتلائیں گے۔لیکن یہ ہیںکہ ان کو دوبارہ اتار رہے ہیں۔اب انصاف سے بتلاؤ کہ کیا یہ ہماری اپنی بنائی ہوئی باتیں ہیں؟ سوچو تو سہی کہ وہ تو بے چارے بار بار خدا تعالیٰ کے سامنے اقرار کرتے ہیں کہ مجھے خبر نہیںکہ عیسائیوں نے مجھے پوجا ہے یا کسی اور کو۔اور اپنے خدا یا خدا کا بیٹا بنائے جانے سے لاعلمی ظاہر کریں گے مگر یہ لوگ کہتےہیں کہ قیامت سے پہلے دنیا میں نازل ہوں گے۔کسر صلیب کریں گے لڑائیاں کریں گے اور سب مشرکوں کو قتل کر کے مسلمان کر دیں گے۔جس سے ماننا پڑتا ہے کہ حضرت عیسٰیؑ خدا کے سامنے جھوٹ بولیں گے اور باوجود عیسائیوں کے اعتقاد سے خبر رکھنے کے لا علمی ظاہر کریں گے۔