ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 331 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 331

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۱ جلد نهم انہیں سے نافرمان ہو کر انہیں پر الزام لگاتے ہیں۔ یہ آخری زمانہ ہے اگر عیسائی ہدایت پا جائیں تو پا جائیں مگر یہ لوگ اپنے اس عقیدہ سے باز نہیں آئیں گے بلکہ اسی کی تائید پر زور دیں گے۔ اتنا نہیں سوچتے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزہ مانگا گیا تھا۔ اُو تَرْقَى فِي السَّمَاءِ (بنی اسرآءيل: ۹۴) یعنی آسمان پر چڑھ جاؤ کہا گیا تھا تو خدا تعالیٰ نے یہی جواب دیا تھا کہ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولًا (بنی اسراءیل: ۹۴) یعنی خدا اس سے پاک ہے کہ وہ اپنے وعدے کا تخلف کرے میں تو ایک بشر رسول ہوں ۔ بشر رسول آسمان پر نہیں جایا کرتے ۔ اب یہ لوگ جو حضرت عیسی کو آسمان پر چڑھاتے ہیں تو اس سے معلوم ہوا کہ اسے بشر بھی نہیں سمجھتے کیونکہ بشر کے لیے تو خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ آسمان پر نہیں جا سکتا ۔ اصل میں یہ لوگ اسلام کے سخت دشمن ہیں۔ جس شخص کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پاس نہیں وہ بے ایمان ہے۔ خدا تعالیٰ تو ایک مومن کا بھی پاس کرتا ہے جیسے فرمایا وَ اللهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ ( آل عمران : ۶۹) وَ اللهُ وَلِيُّ الْمُتَّقِينَ (الجاثية : ٢٠) افسوس ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کیسے کیسے الزام لگائے ۔ مشرق سے لے کر مغرب تک چاروں طرف دوڑو۔ کسی سچے مسلمان کا یہ عقیدہ نہیں ہو سکتا کہ حضرت عیسی تو مش شیطان سے پاک ہیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ( معاذ اللہ ) پاک نہیں ۔ اس بات کا ہمیں کوئی جواب دے بشرطیکہ وہ ایماندار ہو کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت یونس سے بھی گئے گزرے ہو گئے؟ افسوس کہ ان لوگوں نے دین کا ستیا ناس کر دیا۔ جب کافروں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قسمیں کھائی تھیں کہ آپ ہمارے سامنے آسمان پر چڑھ کر دکھادیں اس کے بعد ہمارا آپ سے کوئی جھگڑا نہیں ہو گا بلکہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے تو ہمیں بتلاؤ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان پر چڑھنے سے کیوں انکار کر دیا تھا اور کیوں کہہ دیا تھا کہ بشر آسمان پر نہیں جا سکتا اور پھر ان لوگوں کے پاس اگر کسی بشر کے آسمان پر جانے کی نظیر موجود تھی تو وہ پیش کر دیتے ۔ کیوں وہ اس لے یہ فقرہ حضرت عیسی سے بھی گئے گزرے ہو گئے ہونا چاہیے کیونکہ انہیں کا ذکر چل رہا ہے۔ غالباً سہو کتابت سے یونس“ لکھا گیا ہے۔ (مرتب) لے