ملفوظات (جلد 9) — Page 330
کہنے والے تو ظالم ہیں نہ مسلمان۔یہ تو بے ایمانوں اور ظالموں کا قول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر (معاذ اللہ ) سحر اور جادو کا اثر ہوگیا تھا۔اتنا نہیں سوچتے کہ جب (معاذ اللہ ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال ہے تو پھر امت کا کیا ٹھکانا؟ وہ تو پھر غرق ہوگئی۔معلوم نہیں ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ جس معصوم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انبیاء مسّ شیطان سے پاک سمجھتے آئے ہیں یہ ان کی شان میں ایسے ایسے الفاظ بولتے ہیں۔مقام مریمی فرمایا۔یہ بات ہمارے تو وہم و قیاس میں بھی نہ تھی کہ خدا تعالیٰ نے ہمارا نام مریم رکھا ہے اور پھر اس میں نفخ روح کر کے عیسیٰ پیدا کیا ہے۔فرمایا۔باوجود براہین احمدیہ کے ریویو لکھنے کے کسی نے اس پر جرح نہیںکی کہ کیوں مریم نام رکھا۔اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ اسی کتاب میں يَاعِيْسٰٓى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ کا الہام بھی درج ہے مگر اس طرف کسی نے ذرا بھی توجہ نہ کی۔۱ بلا تاریخ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا مرتکب کون ہے فرمایا۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم انبیاء کو گالی نکالتے ہیں۔حالانکہ کسی کو وفات یافتہ کہنا گالی نہیں ہوتی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب وفات پاگئے تو اور کون ہے جو زندہ رہے؟ انہوں نے خود مَر کر دکھایا کہ سب نبی فوت ہوگئے ہیں اور پھر معراج کی رات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسٰیؑ کو وفات یافتہ انبیاء میں دیکھا۔اصل میں گالی تو یہ لوگ نکالتے ہیں جو افضل الرسل سید المعصومین کو (معاذ اللہ ) شیطانی مسّ سے آلودہ سمجھتے ہیں اور حضرت عیسٰیؑ کو پاک سمجھتے ہیں۔کتنے اندھیر کی بات ہے کہ یہ لوگ باوجودیکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء سمجھتے ہیں۔انہیںکا کلمہ پڑھتے اور انہیں کی امت سے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر پھر