ملفوظات (جلد 9) — Page 298
بیمار اور مسافر روزہ نہ رکھیں بیمار اور مسافر کے روزہ رکھنے کا ذکر تھا۔حضرت مولوی نورالدین صاحب نے فرمایا کہ شیخ ابن عربی کا قول ہے کہ اگر کوئی بیمار یامسافر روزہ کے دنوں میں روزہ رکھ لے تو پھر بھی اسے صحت پانے پر ماہ رمضان کے گذرنے کے بعد روزہ رکھنا فرض ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے۔فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ(البقرۃ:۱۸۵) جو تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو وہ ماہِ رمضان کے بعد کے دنوں میں روزے رکھے۔اس میں خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ جو مریض یا مسافر اپنی ضد سے یا اپنے دل کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے انہیں ایام میں روزے رکھے تو پھر بعد میں رکھنے کی اس کو ضرورت نہیں۔خدا تعالیٰ کا صریح حکم یہ ہے کہ وہ بعد میں روزے رکھے۔بعد کے روزے اس پر بہرحال فرض ہیں۔درمیان کے روزے اگر وہ رکھے تو یہ اَمر زائد ہے اور اس کے دل کی خواہش ہے اس سے خدا تعالیٰ کا وہ حکم جو بعد میں رکھنے کے متعلق ہے ٹل نہیں سکتا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ جو شخص مریض اور مسافر ہونے کی حالت میں ماہ صیام میں روزہ رکھتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے صریح حکم کی نافرمانی کرتا ہے۔خدا تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ مریض اور مسافر روزہ نہ رکھے۔مرض سے صحت پانے اور سفر کے ختم ہونے کے بعد روزے رکھے۔خدا کے اس حکم پر عمل کرنا چاہیے۔کیونکہ نجات فضل سے ہے نہ کہ اپنے اعمال کا زور دکھا کر کوئی نجات حاصل کر سکتا ہے۔خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ مرض تھوڑی ہو یا بہت اور سفر چھوٹا ہو یا لمبا ہو بلکہ حکم عام ہے اور اس پر عمل کرنا چاہیے۔مریض اور مسافر اگر روزہ رکھیں گے تو ان پر حکم عدولی کا فتویٰ لازم آئے گا۔مسافر اور مریض فدیہ دے سکتے ہیں فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے شریعت کی بنا آسانی پر رکھی ہے جو مسافر اور مریض صاحب مَقدرت ہوں۔ان کو چاہیے کہ روزہ کی بجائے فدیہ دے دیں۔فدیہ یہ ہے کہ ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے۔۱ ۱ بدر جلد ۶ نمبر ۴۲ مورخہ ۱۷؍اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۷