ملفوظات (جلد 9) — Page 296
کوئی مارے تو بھی مقابلہ نہ کریں جس سے فتنہ و فساد ہوجائے۔دشمن جب گفتگو میں مقابلہ کرتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ ایسے جوش دلانے والے کلمات بولے جن سے فریق مخالف صبر سے باہر ہو کر اس کے ساتھ آمادہ بجنگ ہوجائے۔اخراجات کے معاملہ میں ان لوگوں کو صحابہؓ کا نمونہ اختیار کرنا چاہیے کہ وہ فقر و فاقہ اٹھاتے تھے اور جنگ کرتے تھے۔ادنیٰ سے ادنیٰ معمولی لباس کو اپنے لیے کافی جانتے تھے اور بڑے بڑے بادشاہوں کو جا کر تبلیغ کرتے تھے۔یہ ایک بہت مشکل راہ ہے۔قبل امتحان کسی کے متعلق ہم کوئی رائے نہیں لگا سکتے اور میں جانتا ہوں کہ اس امتحان میں بعض مدعی کچے نکلیں گے۔اب تک جس قدر درخواستیں آئی ہیں میں ان سب پر نیک ظن رکھتا ہوں کہ وہ عمدہ آدمی ہیں اور صابر اور شاکر ہیں، لیکن بعض ان میں سے بالکل نوجوان ہیں۔نیز عرفاً اور شرعاً لازم ہے کہ ان کے واسطے ہم قُوْت لا یموت کا فکر کریں گو ہر جگہ جہاں وہ جائیں گے میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں وہ بات پائی جاتی ہے جو اخوت اسلامی کے واسطے ضروری ہے۔ہماری جماعت کے لوگ ان کی خدمت کریں گے۔مگر پہلے سے ان کے واسطے اسی جگہ انتظام مناسب ہوجانا بہتر ہے۔واعظ ایسے ہونے چاہئیں جن کی معلومات وسیع ہوں۔حاضر جواب ہوں۔صبر اور تحمل سے کام کرنے والے ہوں۔کسی کی گالی سے افروختہ نہ ہوجائیں۔اپنے نفسانی جھگڑوں کو درمیان میں نہ ڈال بیٹھیں۔خاکسارانہ اور مسکینانہ زندگی بسر کریں۔سعید لوگوں کو تلاش کرتے پھریں جس طرح کہ کوئی کھوئی ہوئی شَے کو تلاش کرتا ہے۔مفسدہ پرداز لوگوں سے الگ رہیں۔جب کسی گاؤں میں جائیں وہاں دو چار دن ٹھہر جائیں۔جس شخص میں فساد کی بد بو پائیں اس سے پرہیز کریں۔کچھ کتابیں اپنے پاس رکھیں جو لوگوں کو دکھائیں۔جہاں مناسب جانیں وہاں تقسیم کر دیں۔یہ عمدہ صفات سید سرور شاہ صاحب میں پائے جاتے ہیں اور کشمیر کے واسطے مولوی عبد اللہ صاحب اس کام کے لیے موزوں معلوم ہوتے ہیں۔واعظین کے واسطے ضروری ہوگا کہ اپنی ہفتہ وار رپورٹ یہاں بھیج دیا کریں۔۱ ۱ بدر جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخہ ۳؍اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۶