ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 294 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 294

آدمی کے قریب ہوں گے جو اسی طرح ہلاک ہو رہے ہیں اور خلق خدا کو راہ راست سے پھیر رہے ہیں اور اس زمانہ میں ایسی باتوں کا وہ چرچا پھیل گیا ہے کہ پہلے زمانوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ایک ہندو میرے پاس آیا اور بیان کیا کہ فلاں آدمی کی تبدیلی کی نسبت میں نے خواب دیکھی تھی پھر ویسے ہی ظہور میں آگئی تھی اور طاعون کی نسبت بھی پہلے ہی سے خواب دیکھی ہوئی تھی۔میں نے اس کو جواب دیا کہ انہیں باتوں نے ہی تجھے ہلاک کرنا ہے۔ایسے ہی ایک چوہڑی اپنی خوابیں بیان کیا کرتی تھی جو اکثر سچی ہوا کرتی تھیں۔ایسے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ابوجہل کو بھی خوابیں آیا کرتی تھیں اور اکثر سچی نکل آتی تھیں۔۱ ہر ایک اس فرق کو معلوم نہیں کر سکتا۔ایسی خوابوں وغیرہ پر اپنے آپ کو پاک صاف نہیں سمجھ لینا چاہیے بلکہ اپنی عملی حالت کو پاک کرنا چاہیے جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى (الاعلٰی: ۱۵) اپنی حالت کا بہت مطالعہ کرنا چاہیے اور ایسی باتوں کی خواہش بھی نہیں کرنی چاہیے۔اگر تخم ریزی سے ہی انسان سمجھ لے گا کہ میں رسول ہوں تو ٹھوکر کھائے گا۔۲ یہاں تو معاملہ ہی اَور ہے اور اس کے شرائط اور آثار بھی الگ ہیں۔اور خدا کے کسی مامور رسول کے وقت اس کی کثرت ہوجاتی ہے جیسا کہ چشمہ صافی سے پانی نکلتا ہے تو کچھ اور جگہوں پر پڑتا ہے۔اس میں خواب دیکھنے والے کی کوئی خوبی اور نیکی کی نشانی نہیں۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخہ ۳؍اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۶ ) ۱بدر سے۔’’غرض یہ کوئی قابل فخر اَمر نہیں اور افسوس ہے کہ لوگ اس سے ٹھوکر کھاتے ہیں اور سخت نقصان اٹھاتے ہیں۔ان لوگوں کے واسطے بہتر تھا کہ ان کو کوئی خواب نہ آتا اور یہ دھوکے میں پڑ کر تکبر نہ کرتے۔وہ نہیں سمجھتے کہ ان خوابوں کی بنا پر اپنے آپ کو کچھ سمجھنے لگنا ان کے واسطے موجب ہلاکت ہے۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخہ ۳؍اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۶ ) ۲ بدر سے۔’’جو شخص اپنی خوابوں کی طرف جاتا ہے وہ ٹھوکر کھا کر ہلاک ہوجائے گا۔اس جگہ بہت عقلمندی درکار ہے۔