ملفوظات (جلد 9) — Page 293
(بوقتِ ظہر) اس زمانہ میں ایک رسول کے آنے کی پیشگوئی طاعون کے ذکر پر فرمایا کہ اس عذاب کی اللہ کریم نے پہلے ہی سے قرآن مجید میں خبر دے رکھی ہے۔جیسے فرمایا وَ اِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيْدًا(بنیٓ اسـرآءیل:۵۹) اور پھر ساتھ ہی قرآن مجید میںیہ بھی لکھا ہے وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا(بنیٓ اسـرآءیل:۱۶) اگر ان دونو ںآیتوں کو ملا کر پڑھا جاوے تو صاف ایک رسول کی نسبت پیشگوئی معلوم ہوتی ہے اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ رسول کا آنا اس زمانہ میں ضروری ہے۔یہ کہنا کہ فلاں فلاں رسول کے زمانہ میں یہ یہ عذاب آئے ان لوگوں کے خیال کے بموجب تو جب کل دنیا میں عذاب شروع ہوگیا اس وقت کوئی رسول نہ آیا تو اس بات کا کیا اعتبار رہا کہ پہلے زمانہ میں جو عذاب آئے تھے ان رسولوں کے انکار سے ہی آئے تھے۔کیسی صاف بات تھی کہ آخری زمانہ میں سخت عذاب آئیں گے اور ساتھ ہی یہ لکھا تھا کہ جب تک رسول مبعوث نہ کر لیں عذاب نہیں بھیجتے ہیں۔اس سے بڑھ کر صاف پیشگوئی اور کیا ہوسکتی ہے؟۱ زمانہ کی موجودہ حالت بھی اس بات کو ظاہر کر رہی ہے کہ کوئی رسول آوے۔سب دنیا اسباب پر ہی گر گئی ہے۔اصلی مسبّب الاسباب کو بالکل بھلا دیا ہے۔سچی خوابیں اور پھر دوسری تباہی یہ آرہی ہے کہ جس شخص کو کوئی سچی خواب، رؤیا یا الہام ہوتا ہے وہی اپنے آپ کو مامور من اللہ اور رسول سمجھنے لگ جاتا ہے۔۲ اور کوئی پچاس ۱بدر سے۔’’قرآن شریف سے تو ثابت ہے کہ کسی ایک گاؤں پر بھی عذاب نہیں آتا جب تک کہ اس سے پہلے خدا کا کوئی رسول نہ آوے۔تعجب ہے کہ ایسا عالمگیر عذاب زمین پر پڑ رہا ہے اور ہنوز ان لوگوں کے نزدیک خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی نذیر نہیں آیا اور نہ ان کے نزدیک کسی نذیر کی ضرورت ہے۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخہ ۳؍اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۶ ) ۲بدر سے۔’’ وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں ولی ہوگیا ہوں، رسول ہوگیا ہوں، خدا کا برگزیدہ بن گیا ہوں، اس کا پیارا ہوگیا ہوں۔اور نہیں سوچتا کہ اس کے نفس کا کیا حال ہے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ محبت اور وفا اور صدق اور اخلاص کا تعلق (بقیہ حاشیہ)اس کو کہاں تک حاصل ہے اور کہ اس کا دل کہاں تک بدیوں سے پاک ہو کر نیکیاں حاصل کر چکا ہے۔صرف خوابوں کا آنا اور ان کا سچا ہوجانا کوئی شَے نہیں۔کیونکہ یہ بات تو تخم ریزی کے طور پر ہر انسان میں رکھی گئی ہے