ملفوظات (جلد 9) — Page 280
ایک شعر سنا دیتا ہوں کہ ؎ ہم خدا خواہی و ہم دنیائے دون این خیال است و محال است و جنون موت کو یاد رکھو اور خدا تعالیٰ کو مت بھولو اور پھر موت کا اعتبار نہیں کہ کب آجاوے۔اس لیے انسان کو نڈر نہیں ہونا چاہیے اور سِفلی دنیا کی خاطر دین سے غفلت نہیں کرنا چاہیے۔؎ مکن تکیہ بر عمر ناپائیدار مباش ایمن از بازیٔ روزگار وہ موت تاریکی کی موت ہے۔جو انسان اپنے دنیاوی دھندوں میں مصروف ہوتا ہے اور موت اوپر سے آ دباتی ہے۔حافظ نے ایسے موقع پر ایک شعر کہا ہے ؎ چو روزِ مَرگ نہ پیداست بارے آں اولیٰ کہ روزِ واقعہ پیش نگار خود باشد یعنی موت کا دن تو مخفی ہوتا ہے۔بہتر یہی ہے کہ مَرنے کے دن میرا محبوب اورمیرا معشوق میرے پاس ہو۔موت جب آتی ہے تو ناگہانی طور پر آجاتی ہے۔انسان کہیں اَور تدبیروں اور دھندوں میں پھنسا ہوا ہوتا ہے کہ یہ کام اس طرح ہو جاوے یہ ایسے ہو جاوے اور اوپر سے موت آجاتی ہے اور پھر لَا يَسْتَاْخِرُوْنَ۠ سَاعَةً وَّ لَا يَسْتَقْدِمُوْنَ۠(الاعراف:۳۵) والا معاملہ ہوتا ہے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ ملازمت، تجارت، زمینداری اور دوسرے وجوہِ معاش کو انسان چھوڑ دیوے بلکہ چاہیے کہ عملی طور پر اس تعلق کو بھی ثابت کر کے دکھاوے جو خدا کے ساتھ رکھنے کا اقرار کرتا ہے۔جتنی جانفشانیاں اور جد و جہد دنیا کے لیے کرتا ہے دوسری طرف دین کے لیے بھی تو کر کے دکھاوے۔زبانی دعوے تو خواہ آسمان تک پہنچ جاویں جب تک عملی طور پر کر کے نہ دکھاؤ گے کچھ نہیں بنے گا۔مومن آدمی کا سب ہم ّ و غم خدا کے واسطے ہوتا ہے۔دنیا کے لیے نہیں ہوتا اور وہ دنیاوی کاموں کو کچھ خوشی سے نہیں کرتا بلکہ اداس سا رہتا ہے اور یہی نجات حیات کا طریق ہے اور وہ جو دنیا کے پھندوں میںپھنسے ہوئے ہیں اور ان کے ہمّ و غم سب دنیا کے لیے ہی ہوتے ہیں ان کی نسبت تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا(الکھف:۱۰۶) ہم قیامت کو ان کا ذرّہ بھر بھی قدر نہیں کریں گے۔