ملفوظات (جلد 9) — Page 279
بسر کر کے خدا کو ملنے کی خواہش کرے تو یہ محال ہے۔بڑے بڑے زخموں اور سخت سے سخت ابتلاؤں کے بغیر انسان خدا کو مل ہی نہیں سکتا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْۤا اَنْ يَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ(العنکبوت:۳) غرض بغیر امتحان کے تو بات بنتی ہی نہیں اور پھر امتحان بھی ایسا جو کہ کمر توڑنے والا ہو۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑھ کر مشکل امتحان ہوا تھا جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے وَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِيْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَ(الم نشـرح:۳،۴) جب سخت ابتلا آئیں اور انسان خدا کے لیے صبر کرے تو پھر وہ ابتلا فرشتوں سے جا ملاتے ہیں۔انبیاء اسی واسطے زیادہ محبوب ہوتے ہیں کہ ان پر بڑے بڑے سخت ابتلا آتے ہیں اور وہ خود ہی ان کو خدا سے جاملاتےہیں۔امام حسینؓپر بھی ابتلا آئے اور سب صحابہ کے ساتھ یہی معاملہ ہوا کہ وہ سخت سے سخت امتحان میں ڈالے گئے۔گوشت اور پلاؤ کھانے سے اور آرام سے بیٹھ کر تسبیح پھیرتے رہنے سے خدا کا ملنا محال ہے۔صحابہؓ کی تسبیح تو تلوار تھی اگر آج کل کے لوگوں کو کسی جگہ اشاعت اسلام کے واسطے باہر بھیجا جاوے تو دس دن کے بعد تو ضرور کہہ دیں گے کہ ہمارا گھر خالی پڑا ہے۔صحابہؓ کے زمانہ پر اگر غور کیا جاوے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے ابتدا سے فیصلہ کر لیا ہوا تھا کہ اگر خدا کی راہ میں جان دینی پڑ جائے تو پھر دے دیں گے۔انہوںنے تو خدا کی راہ میں مَرنے کو قبول کیا ہوا تھا۔جتنے صحابہؓ جنگوں میں جاتے تھے کچھ تو شہید ہوجاتے تھے اور کچھ واپس آجاتے تھے اور جو شہید ہوجاتے تھے ان کے اقربا پھر ان سے خوش ہوتے تھے کہ انہوں نے خدا کی راہ میں جان دی اور جو بچے آتے تھے وہ اس انتظار میں رہتے تھے اور شاکی رہتے کہ شاید ہم میں کوئی کمی رہ گئی جو ہم جنگ میں شہید نہیںہوئے اور وہ اپنے ارادوں کو مضبوط رکھتے تھے اور خدا کے لیے جان دینے کو تیار رہتے تھے جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِيْلًا(الاحزاب:۲۴) سب سے زیادہ تقویٰ پر قدم مارنے والی، استقامت اور رضا کے نمونے دکھانے والی تو ہماری جماعت ہی ہے مگر ان میں سے بھی ابھی بہت ایسے ہیں جو دنیا کے کیڑے ہیں اور ایسے موقع پر میں