ملفوظات (جلد 9) — Page 278
صحابیات کا مثالی ایمان ایک عورت کا حال بیان کرتے ہیں کہ اس کا خاوند اور بیٹا اور بھائی جنگ میں شہید ہوگئے۔جب لوگ جنگ سے واپس آئے تو انہوں نے اس عورت کو کہا کہ تیرا خاوند، بیٹا اور بھائی تو لڑائی میں مارے گئے تو اس عورت نے جواب دیا کہ مجھے صرف اتنا بتا دو کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم تو صحیح سلامت زندہ بچ کر آگئے یا نہیں؟ تعجب ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی عورتوں کا بھی کتنا بڑا ایمان تھا۔حضرت اُم المؤمنین کا اعلیٰ ایمان فرمایا۔کل والا الہام کہ ’’خدا خوش ہوگیا‘‘ ہم نے اپنی بیوی کو سنایا تو اس نے سن کر کہا کہ مجھے اس الہام سے اتنی خوشی ہوئی ہے کہ اگر دو ہزار مبارک احمد بھی مَر جاتا تو میں پروانہ کرتی۔فرمایا۔یہ اس الہام کی بنا پر ہے کہ ’’میں خدا کی تقدیر پر راضی ہوں۔‘‘ اور پھر چار دفعہ یہ الہام بھی ہوا تھا اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا۔اور پھر ’’ہے تو بھاری مگر خدائی امتحان کو قبول کر۔‘‘ اور پھر ’’لائف آف پین ‘‘ یعنی تلخ زندگی۔صاحبزادہ مرزا مبارک احمد کی وفات خدائی وعدوں کے مطابق ہے فرمایا۔اگر یکجائی نظر سے دیکھا جائے تو ایک اندھا بھی انکار نہیں کر سکتا اور پھر پیدا ہوتے ہی الہام ہوا تھا اِنِّيْۤ اَسْقُطُ مِنَ اللہِ وَاُصِیْبُہٗ میرے دل میں خدا نے اسی وقت ڈال دیا تھا۔تبھی تو میں نے لکھ دیا تھا یا یہ لڑکا نیک ہوگا اور روبخدا ہوگا اور خدا کی طرف اس کی حرکت ہوگی اور یا یہ جلد فوت ہوجائے گا۔کوئی بد معاش اور راستی کا دشمن ہو تو اَور بات ہے مگر یکجائی طور پر نظر کرنے سے ایک دشمن بھی مان جائے گا کہ یہ جو کچھ ہوا ہے خدا ئی وعدوں کے مطابق ہوا ہے اور پھر یہ الہام بھی ہوا تھا۔’’اِنِّیْ مَعَ اللہِ فِیْ کُلِّ حَالٍ‘‘اب بتلاؤ ایسی صاف بات سے انکار کس طرح ہو سکتا ہے۔ابتلاؤں کا آنا ضروری ہے اصل میں ابتلاؤں کا آنا ضروری ہے۔اگر انسان عمدہ عمدہ کھانے گوشت پلاؤ اور طرح طرح کے آرام اور راحت میں زندگی