ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 277 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 277

میںیہ شائع کیا جاوے کہ خدا کی طرف سے یہ الہام ہوا ہے تاکہ خدا کو بھی غیرت آئے۔خدا کو تو غیرت تبھی آئے گی جب اس پر افترا کیا جاوے گا اور اس کا نام لے کر جھوٹ بولا جاوے گا۔اور پھر اس پیشگوئی میں ایک انسان کی پرستش کرنے والے اور اسلامیوں کے رو سے کفر کا عقیدہ رکھنے والے کو اس نے حقیقی مسیح قرار دیا۔کیا کوئی مسلمان اس سے خوش ہو سکتا ہے؟ ہمارا تو خیال ہے کہ ایک پادری بھی اس کو پسند نہیں کرے گا اور ایسی بات سے کبھی خوش نہیںہوگا۔عیسائی ایسی باتوں کو کب مانتے ہیں؟ یہ تو سب فرضی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔گورنمنٹ کی اطاعت اَور اَمر ہے اور مذہبی امور اَور بات ہے۔جہاں تک ہمارا خیال ہے ایسی چور کارروائی سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی فرضی نام ہوگا۔کئی خطوط آتے ہیں۔جب ان کا جواب بھیجا جاتا ہے تو کئی دنوں کے بعد وہی واپس آجاتا ہے۔جس پر لکھا ہوا ہوتا ہے کہ اس نام کی بہتیری تلاش کی گئی مگر کوئی شخص اس نام اور پتا کا نہیں ملا۔حضرت اقدس نے فرمایا۔میں نے پڑھا ہے۔اصل میں یہ لوگ ہمارے مقابلہ پر ہر ایک شَر سے کام لینا چاہتے ہیں اور ہمیں ہر طرح کے نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔امام حسینؓکو قریباً پچاس ہزار کوفے کے آدمیوں نے خط لکھا کہ آپ آئیں ہم نے بیعت کرنی ہے اور جب وہ آئے تو سب مل کر قَسمیں کھا کر کہنے لگے کہ ہم نے تو کوئی خط روانہ نہیں کیا اور صاف انکار کر دیا اور ابھی تقویٰ اس زمانہ میں بہت تھا کیونکہ زمانہ نبوت کو تھوڑا ہی عرصہ گذرا تھا۔مگر اس زمانہ کے لوگوں میں تو تقویٰ اور دیانت، امانت کا نام و نشان بھی نہیں رہا اور جھوٹ تو ایسے مزہ سے بولتے ہیں کہ گویا وہ گناہ ہی نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت فرمایا۔ہمارے نبی کریمؐ کے زمانہ میں ایک لڑکے کا باپ جنگ میں شہید ہوگیا۔جب لڑائی سے واپس آئے تو اس لڑکے نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا میرا باپ کہاں ہے؟ توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکے کو گود میں اٹھا لیا اور کہا کہ میں تیرا باپ ہوں۔