ملفوظات (جلد 9) — Page 276
۲۰؍ستمبر ۱۹۰۷ء (بوقتِ سیر ) اَلدَّار کی حفاظت کا الٰہی وعدہ فرمایا۔آج رات کو پھر الہام ہوا کہ ’’اِنِّيْۤ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ ‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سال یا دوسرے سال شدت سے طاعون پڑے گی۔گو بڑے بڑے انتظام ہو رہے ہیں کہ کسی طرح طاعون دور ہو مگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ ان تدابیر میں اللہ تعالیٰ کا ذکر تک بھی نہیں کیاجاتا۔ہم نے مانا کہ قواعد بھی ہیں۔طبیب اور ڈاکٹر بھی ہیں۔انتظام بھی ہیں۔مگر یہ تو بڑی بے ادبی کی بات ہے کہ اصلی اور حقیقی محافظ کا اشارہ تک نہیں کیا جاتا۔اس الہام سے معلوم ہوتا ہے کہ طاعون، ہیضہ یا کوئی اور وبائی امراض پھیلنے والے ہیں اور اللہ کریم وعدہ فرماتا ہے کہ اِنِّيْۤ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ اور اخبار روزانہ میں جو میری نسبت پیشگوئی کی گئی ہے کہ طاعون سے ہلاک ہوجاؤں گا اس کا جواب اللہ تعالیٰ دیتا ہے کہ اِنِّيْۤ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ۔ہماری طرف سے تو بالکل خاموشی تھی مگر خدا تو سمیع علیم ہے۔حضور کے خلاف پیشگوئیوں کی حقیقت پیشگوئی میں جو لکھا ہے کہ میں (ہلاک) ہوجاؤں گا اور میری جماعت پاش پاش ہو جاوے گی خدا اس کا جواب دیتا ہے کہ میں ہر ایک کی جو تیرے گھر میں ہوگا حفاظت کروں گا۔ہمیں تو شک پڑتا ہے کہ کرامت علی بھی کہیں فرضی نام نہ ہو ورنہ مسلمان ہو کر اسلام پر ہنسی ٹھٹھا کرنا کچھ تعجب ہی آتا ہے۔ہم یہ بھی پوچھنا چاہتے ہیں کہ یہ جو پیشگوئی کی گئی ہے آیا کسی الہام کی بنا پر کی گئی ہے یا فرضی طور پر ہنسی ٹھٹھے سے کام لیا گیا ہے۔اگر خدا نے بتلائی ہے تو پھر اس وحی اور الہام کو بھی شائع کیا جاوے ورنہ یوں تو یہاں اچّھر نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ میں طاعون سے نہیں مَروں گا۔اپنے ارادوں پر تو ہرایک نے مَرنا۱ ہی ہے۔ایسے فضول دعووں پر ہم توجہ نہیں کیا کرتے۔چاہیےکہ ہمارے مقابلہ ۱ یہ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے۔غالباً عبارت یوں ہوگی۔’’اپنے ارادوں پر تو ہر ایک نے مَرنا نہیں ہے۔‘‘(مرتّب)