ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 271 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 271

طاعون دور نہیں ہوگا جب تک کہ اصلی مسیح موعود یعنی پرنس ایڈورڈ خلف جناب پرنس آف ویلز و نبیرہ حضور ملک معظم شاہ ایڈورڈ ہندوستان میں بطور وائسرائے نہیں آئیں گے۔(نیاز مند نور احمد خریدار روزانہ پیسہ اخبار معرفت ایجنٹ دہلی )۱ یہ مراسلہ سن کر حضرت اقدس نے فرمایا۔پیشگوئیاں تو وہ ہوتی ہیں جو قبل از وقت وقوع اخباروں اور رسالوں کے ذریعہ سے عام طور پر شائع ہوں اور دنیا میں ان کی عام طور پر شہرت ہو۔آجکل کے لوگوں کی زبانی شہادتوںکا کیا بھروسہ ہے۔ہمارے مخالفوں کی اس وقت عجیب حالت ہو رہی ہے۔تھوڑے دنوں کی بات ہے کہ ایک جگہ آٹھ آدمیوں نے قَسم کھا کے بیان کیا کہ ہم دیکھ آئے ہیں جو مجھے جذام ہوگیا ہے۔زبانی شہادتوں پر تو بڑی بڑی کرامتیں لوگوں میں مشہور ہو جایا کرتی ہیں حالانکہ اصلیت کچھ بھی نہیں ہوتی۔فرمایا۔یہ اخبار تو رکھنے کے لائق ہے۔اس کی پہلی پیشگوئی کی نسبت صرف زبانی شہادتوں کو ہم کافی نہیں سمجھتے۔ہاں یہ ایک پیشگوئی ہے جو اس اخبار میں درج ہے۔اب خود بخود سچائی ظاہر ہوجاوے گی۔اس نے بڑا ہی ظلم کیا ہے جو دلی میں ہزاروں آدمی طاعون سے مَر گئے اور اس نے ان کو چھوا تک بھی نہیں۔زبانی شہادتیں آجکل کے لوگوں کی قابل قدر نہیں البتہ اس کی یہ پیش گوئی محفوظ رکھنے کے لائق ہے۔یہ کیسی حیلہ سازی ہے کہ جو پیشگوئی کرتا ہے وہ تو چپ ہے اور اس کی بجائے ایک دوسرا شخص شائع کرتا ہے۔دیکھو جتنی پیشگوئیاں ہم کرتے ہیں خود ہی لکھتے اور شائع کرواتے ہیں۔اصل میں قرون ثلاثہ۲ کا حال کمال پر پہنچ چکا ہے۔اس زمانہ میں جھوٹ تو حلوا بے دُود سمجھا جاتا ہے۔ہم پر بڑے بڑے افترا کئے گئے اور طرح طرح کے بہتان لگائے گئے۔عدالتوں میں ہم پر طرح طرح کے جھوٹے الزام ثابت کرنے کی کوشش کی گئی اور ان لوگوں نے ہمارے برخلاف آتمارام اور ۱ الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۴ مورخہ ۲۴؍ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۰ ۲غالباً یہ لفظ ’’قرونِ سابقہ‘‘ ہوگا جو کاتب کی غلطی سے ’’ثلاثہ‘‘ لکھا گیا۔واللہ اعلم بالصواب(مرتّب)