ملفوظات (جلد 9) — Page 268
گمنامی میں گذر گیا صرف ایک مصیبت واقعہ صلیب کی ان پر پڑی۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت سخت مصائب پڑے۔تیرہ سال تک بڑے صبر اور استقلال کے ساتھ آپ نے مکہ میں زندگی بسر کی اور ہر طرح کا دکھ اٹھایا اور آخر نہایت مجبوری کی حالت میں ہجرت کی۔آپؐکی تکالیف سب سے بڑھ کر تھیں۔آنحضرتؐکی کامیابی سب سے بڑھ کر تھی مگر آپؐکو جو کامیابی نصیب ہوئی وہ بھی سب سے بڑھ کر تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے اصحاب دیئے گئے جنہوں نے آپؐکی خاطر جانیں دے دیں اور اس کو فخر سمجھا، لیکن جب حضرت عیسٰیؑ کے اصحاب کو دیکھتے ہیں تو ایک نے تیس روپے لے کر اپنے نبی کو بیچ ڈالا گویا وہ اس کا مرشد نہ تھا غلام تھا۔دوسرے نے منہ پر لعنت کی۔حضرت موسٰی کے ساتھیوں نے کہا کہ جا تو اور تیرا خدا کافروں سے لڑائی کرو۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ حضرت موسٰی کو وعدہ کی زمین بھی اپنی عمر میں دیکھنی نصیب نہ ہوئی۔مسیح موعودؑ تمام انبیاء کا مظہر ہے فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے ہمارا نام آدمؑبھی رکھا ہے، نوحؑبھی رکھا موسٰی بھی رکھا ہے، داؤدؑ، سلیمانؑ، عیسٰیؑ، محمدؐ غرض بہت سے انبیاء کے نام ہم کو دیئے ہیں اور پھر یہ بھی فرمایا ہے کہ جَرِیُّ اللہِ فِی حُلَلِ الْاَنْبِیَآءِ جس میں یہ اشارہ ہے کہ مسیح موعود تمام انبیاء گذشتہ کا مظہر ہے۔فرمایا۔ہمارے مخالف مولوی ہم پر اس وجہ سے فتویٰ کفر لگاتے ہیں کہ ہم نے عیسٰیؑ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔مگر خدا نے تو ہمارا نام محمدؐ بھی رکھا ہے وہ اس وجہ سے کیوںکفر کا فتویٰ نہیں لگاتے۔کیا ان کے نزدیک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ حضرت عیسٰیؑ سے کم ہے یا ان کو عیسیٰ سے بہت محبت ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے ان کے دل میں کوئی غیرت باقی نہیں رہی۔